LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 2500 سے زائد پوائنٹس کی کمی امریکہ: میڈیکیڈ میں 6 کروڑ 40 لاکھ ڈالر فراڈ پر ذکیہ خان کو 76 ماہ قید اور بھاری جرمانے کی سزا سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار کا سلامتی کونسل سے خطاب نیویارک میں نائن الیون کی 25ویں برسی: میئر زہران ممدانی کی شرکت پر تنازع اور شدید احتجاج ٹرمپ انتظامیہ پیر کو بڑے بینک کے خلاف پابندیاں عائد کرے گی، امریکی وزیر خزانہ واشنگٹن کے تمام اقدامات تیل کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں ناکام رہے ہیں، باقر قالیباف آئی اے ای اے کی ایران کے خلاف قرارداد غیر قانونی اور سیاسی ہے، محسن رضائی بانی پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناحؒ کی 78 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے کینیڈا کا یوکرین کیلئے 35 کروڑ ڈالر کے دفاعی امدادی پیکیج، میزائل فراہم کرنے کا اعلان وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کے خط کا جواب بھجوا دیا، آئین پر عملدرآمد کی یقین دہانی حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا، انصار اللہ کا دعویٰ بحیرہ احمر اور باب المندب میں آمدورفت، تجارت معمول کے مطابق جاری ہے: ترجمان حوثی باغی یمن نے ساحلی علاقوں کا تحفظ عرب اور بین الاقوامی ذمہ داری قرار دیدیا ایران کی حملوں کے باوجود بیلسٹک میزائلوں کی تیاری دوبارہ شروع

روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات: ڈائریکٹر سی آئی اے کا فعال کردار ادا کرنے کا امکان

Web Desk

10 September 2026

بین الاقوامی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکومت روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے اور امن مذاکرات میں اپنے خفیہ ادارے ‘سی آئی اے’ (CIA) کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کو مزید فعال اور بنیادی کردار دینے پر غور کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے اپنے یورپی ہم منصبوں کو آگاہ کیا ہے کہ واشنگٹن سفارتی کوششوں کو مزید موثر بنانے کے لیے سی آئی اے چیف کا دائرہ اختیار بڑھا سکتا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی ان مذاکرات میں براہ راست شمولیت محدود کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب، سی آئی اے کی ترجمان لز لائنس نے فنانشل ٹائمز کی اس رپورٹ کو فوراً اور سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے محض قیاس آرائی اور غلط قرار دیا ہے۔ تا ہم بین الاقوامی سفارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن انتظامیہ کی جانب سے یہ پالیسی تبدیلی عمل میں لائی جاتی ہے، تو جان ریٹکلف کی شمولیت سے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی اور مستقل امن کے قیام کے لیے جاری امریکی سفارتی کوششوں کو ایک نیا عسکری و انٹیلی جنس رخ مل سکتا ہے۔