LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

Web Desk

9 September 2026

اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور خلیج فارس میں بحری آمد و رفت سے متعلق تشویش کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تازہ ترین عالمی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی ہے، جبکہ برطانوی خام تیل (Brent Crude) کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے نفسیاتی ہدف کو چھو چکی ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈی میں سپلائی کی ممکنہ معطلی کے خدشات کی وجہ سے خریداروں کی جانب سے برائنگ کا دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔

اسی طرح متحدہ عرب امارات کے مربن خام تیل (Murban Crude) کی قیمت میں بھی 3 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد یو اے ای مربن کروڈ 110 ڈالر فی بیرل کی اعلیٰ سطح پر فروخت ہو رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات اور مال برداری کے اخراجات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔