LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی ہماری ترجیح ہے، وزیر اعظم سپریم کورٹ: نصف صدی بعد خاتون کو وراثتی جائیداد کیس میں ریلیف مل گیا اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال چین اور برطانیہ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق، اختلافات مذاکرات سے حل کرنے پر زور دہلی کے سابق چیف سیکرٹری نے خودکشی کرلی حکومت کی 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری لانگ مارچ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بنچ تشکیل دے دیا، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کل طلب یمن سے سعودیہ پر حملوں سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہوگا: خواجہ آصف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی ریاست ٹیکساس میں سوشل سٹڈیز کے متنازعہ تعلیمی نصاب کی منظوری، اسلام سے متعلق نصابی تبدیلیوں پر شدید تنقید امریکی محکمہ محنت نے کگنیزنٹ کے لیے نئے گرین کارڈز (پرم) کا پروسیس معطل کر دیا ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ حملوں کا جواب: ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

Web Desk

9 September 2026

اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور خلیج فارس میں بحری آمد و رفت سے متعلق تشویش کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تازہ ترین عالمی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی ہے، جبکہ برطانوی خام تیل (Brent Crude) کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے نفسیاتی ہدف کو چھو چکی ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈی میں سپلائی کی ممکنہ معطلی کے خدشات کی وجہ سے خریداروں کی جانب سے برائنگ کا دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔

اسی طرح متحدہ عرب امارات کے مربن خام تیل (Murban Crude) کی قیمت میں بھی 3 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد یو اے ای مربن کروڈ 110 ڈالر فی بیرل کی اعلیٰ سطح پر فروخت ہو رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات اور مال برداری کے اخراجات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔