LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی عرب نے یمن میں ٹھکانوں پر 32 سے زائد فضائی حملے کئے: حوثیوں کا دعویٰ کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی ہماری ترجیح ہے، وزیر اعظم سپریم کورٹ: نصف صدی بعد خاتون کو وراثتی جائیداد کیس میں ریلیف مل گیا اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال چین اور برطانیہ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق، اختلافات مذاکرات سے حل کرنے پر زور دہلی کے سابق چیف سیکرٹری نے خودکشی کرلی حکومت کی 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری لانگ مارچ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بنچ تشکیل دے دیا، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کل طلب یمن سے سعودیہ پر حملوں سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہوگا: خواجہ آصف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی ریاست ٹیکساس میں سوشل سٹڈیز کے متنازعہ تعلیمی نصاب کی منظوری، اسلام سے متعلق نصابی تبدیلیوں پر شدید تنقید امریکی محکمہ محنت نے کگنیزنٹ کے لیے نئے گرین کارڈز (پرم) کا پروسیس معطل کر دیا ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ

آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر طالبات کے سکارف پہننے پر پابندی کا قانون نافذ

Web Desk

8 September 2026

آسٹریا میں اسکولوں کی تعطیلات کے بعد تعلیمی ادارے کھلتے ہی 14 سال سے کم عمر طالبات کے اسکارف (حجاب) پہننے پر باضابطہ قانونی پابندی نافذ کر دی گئی ہے۔ حکمران سیاسی اتحاد کے مطابق اس متنازع قانون کا بنیادی مقصد کمسن لڑکیوں کی آزادی اور ان کے سماجی الائنس کا تحفظ کرنا ہے۔ حکومت کی جانب سے طے کردہ نئے ضوابط کے تحت قانون کی خلاف ورزی کرنے یا بچوں کو اسکارف پہنانے والے والدین پر 150 یورو سے لے کر 800 یورو (EUR) تک کا بھاری مالی جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

دوسری جانب، آسٹریا کی سب سے بڑی مسلم نمائندہ تنظیم ‘اسلامک ریلیجیئس کمیونٹی ان آسٹریا’ (IGGÖ) نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مسلم تنظیم نے حکومتی فیصلے کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے اس امتیازی قانون کے خلاف عدالتِ عظمیٰ (سائینسی یا آئینی عدالت) سے رجوع کرنے اور اسے قانونی طور پر چیلنج کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔