LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی عرب نے یمن میں ٹھکانوں پر 32 سے زائد فضائی حملے کئے: حوثیوں کا دعویٰ کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی ہماری ترجیح ہے، وزیر اعظم سپریم کورٹ: نصف صدی بعد خاتون کو وراثتی جائیداد کیس میں ریلیف مل گیا اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال چین اور برطانیہ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق، اختلافات مذاکرات سے حل کرنے پر زور دہلی کے سابق چیف سیکرٹری نے خودکشی کرلی حکومت کی 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری لانگ مارچ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بنچ تشکیل دے دیا، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کل طلب یمن سے سعودیہ پر حملوں سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہوگا: خواجہ آصف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی ریاست ٹیکساس میں سوشل سٹڈیز کے متنازعہ تعلیمی نصاب کی منظوری، اسلام سے متعلق نصابی تبدیلیوں پر شدید تنقید امریکی محکمہ محنت نے کگنیزنٹ کے لیے نئے گرین کارڈز (پرم) کا پروسیس معطل کر دیا ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ

ایران جنگ: عالمی معیشت میں تبدیلیوں کے اثرات جنگ کے بعد بھی برقرار رہنے کا امکان

Web Desk

8 September 2026

امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ کی جدید ترین تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں میں ایسے گہرے اور بنیادی ڈھانچہ جاتی تغیرات پیدا کر دیے ہیں جن کے اثرات ممکنہ جنگ بندی کے بعد بھی طویل عرصے تک برقرار رہنے کے امکانات ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے بڑھتے ہوئے عسکری و بحری اثر و رسوخ کے سبب مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی ترسیل کے لیے متبادل سمندری راستوں، زمینی شاہراؤوں اور سخت سیکیورٹی انتظامات کی اشد ضرورت پیدا ہو چکی ہے۔ اس دوران، چین نے اپنے وسیع اور اہم ستراتیژک اِسٹاکس کا استعمال کرتے ہوئے خام تیل کی عالمی درآمدات میں نمایاں کمی کی اور توانائی کے بین الاقوامی منظرنامے میں اپنے بااثر مقام کا لوہا منوایا۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے عرصے کے دوران عالمی سطح پر خام تیل کی مجموعی طلب توقعات سے کہیں زیادہ گری ہے، جبکہ چین اور دیگر بڑے ممالک میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے استعمال میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ معاشی و توانائی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دنیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی روایتی طلب مستقل طور پر زوال پذیر ہو سکتی ہے۔ اس کے جواب میں برازیل، گیانا، کینیڈا، ناروے اور امریکہ سمیت خطۂ مشرقِ وسطیٰ سے باہر کے ممالک نے خام تیل کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے دیگر ممالک نے خطرناک آبنائے ہرمز پر بوجھ کم کرنے کے لیے متبادل آئل پائپ لائنز اور زمینی بندرگاہوں کے راستے فعال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس صورتِ حال نے عالمی توانائی تجارت کا روایتی نقشہ بدل دیا ہے، جس کے باعث اوپیک (OPEC) پلس کو بھی اپنے ارکان کی بڑھتی ہوئی انفرادی پیداواری خواہشات کی وجہ سے سخت سفارتی و معاشی چیلنجز کا سامنا ہے