اقوام متحدہ نے مصنوعی ذہانت انسانیت کیلئے خطرناک قرار دیدی
Web Desk
8 September 2026
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار اور بے لگام پیشرفت انسانیت کے وجود اور بنیادی حقوق کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے متعلق اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، مضبوط، جامع اور ناقبلِ خلاف ورزی ضمانتیں اور ضوابط وضع کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں صرف چند طاقتور افراد اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے پاس مصنوعی ذہانت کی صورت میں تقریباً لامحدود اور بے قابو طاقت جمع ہو چکی ہے۔
وولکر ترک نے اے آئی تیار کرنے والی کمپنیوں اور ٹیکنالوجی کی ترسیلی زنجیر (سپلائی چین) میں شامل ممالک پر زور دیا کہ وہ اس کے ممکنہ انسانی اور سماجی خطرات کو کم سے کم کرنے کے لیے فوری طور پر ذمہ دارانہ اقدامات کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جدید مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایسے واضح، متفقہ اور سخت اصول و ضوابط طے کیے جانے چاہئیں جن کی خلاف ورزی کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کو ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے انسان دشمن اور تباہ کن اثرات سے دنیا کو محفوظ رکھنے کے لیے عالمی اتفاقِ رائے قائم کرنا ہو
متعلقہ عنوانات
سعودی عرب نے یمن میں ٹھکانوں پر 32 سے زائد فضائی حملے کئے: حوثیوں کا دعویٰ
9 September 2026
کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی ہماری ترجیح ہے، وزیر اعظم
9 September 2026
سپریم کورٹ: نصف صدی بعد خاتون کو وراثتی جائیداد کیس میں ریلیف مل گیا
9 September 2026
اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
9 September 2026
چین اور برطانیہ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق، اختلافات مذاکرات سے حل کرنے پر زور
9 September 2026
دہلی کے سابق چیف سیکرٹری نے خودکشی کرلی
9 September 2026
حکومت کی 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری
9 September 2026
لانگ مارچ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بنچ تشکیل دے دیا، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کل طلب
9 September 2026