عظیم ادیب، باکمال مفکر، روشن فکر رہنما اشفاق احمد کو بچھڑے 22 برس بیت گئے
Web Desk
6 September 2026
اردو ادب کے عظیم مصنف، باکمال مفکر اور ڈرامہ نگار اشفاق احمد کو ہم سے بچھڑے 22 برس بیت گئے، تاہم ان کے مداح اور قارئین آج بھی ان کی فکر انگیز یادوں کو اپنے دلوں میں سموئے ہوئے ہیں۔ 22 اگست 1925ء کو مکتسر، ضلع فیروز پور میں پیدا ہونے والے اشفاق احمد قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے۔ انہوں نے دیال سنگھ کالج اور اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض انجام دیے، جبکہ ‘داستان گو’ اور ‘لیل و نہار’ جیسے جریدوں کے مدیر بھی رہے۔ 1953ء میں شائع ہونے والے ان کے شہرہ آفاق افسانے ‘گڈریا’ نے انہیں ادبی دنیا میں بے پناہ اور دائمی شہرت عطا کی۔
اشفاق احمد کی یادگار تصانیف میں ‘ایک محبت سو افسانے’، ‘اجلے پھول’، ‘سفر مینا’، ‘پھلکاری’، ‘سبحان افسانے’، سفرنامہ ‘سفر در سفر’ اور معروف ڈرامائی سیریز ‘ایک محبت سو ڈرامے’ اور ‘توتا کہانی’ شامل ہیں۔ پی ٹی وی پر ان کا مقبولِ عام پروگرام ‘زاویہ’ ان کے صوفیانہ خیالات اور فکر کا آئینہ دار تھا۔ اردو ادب اور ثقافت کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ‘صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی’، ‘ستارۂ امتیاز’ اور ‘ہلالِ امتیاز’ سے نوازا۔ صوفی منش ادیب اشفاق احمد 7 ستمبر 2004ء کو لاہور میں انتقال کر گئے تھے اور ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
متعلقہ عنوانات
لاہور: اسلام پورہ میں ٹک ٹاکر ارشمہ کی ہلاکت کو پولیس نے خودکشی قرار دے دیا
6 September 2026
انڈونیشیا میں آتش فشاں کے باعث 8 ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل
6 September 2026
امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری معاہدے کا متن سامنے آگیا
6 September 2026
امریکی پابندیاں، بحری ناکہ بندی: ایران پر مزید معاشی دباؤ بڑھ گیا
6 September 2026
آبنائے ہرمز کا مشن: ایران کا امریکا کا ساتھ دینے پر جنوبی کوریا کے مفادات کو نشانہ بنانے کا خدشہ
6 September 2026
یمن میں حکومتی فوج اور حوثی باغیوں میں مزید جھڑپیں، ہلاکتیں 140 ہوگئیں
6 September 2026
7 ستمبر شجاعت، غیرت اور پاک فضائیہ کے لازوال معرکوں کا تاریخ ساز دن
6 September 2026
ایران کا آبنائے ہرمز سے پابندیاں عائد کرنے والوں کی آمدورفت روکنے کا منصوبہ منظور
6 September 2026