جرمنی کا لیپزگ ایئرپورٹ پر ڈرون حملے میں روس کے ملوث ہونے کا الزام
Web Desk
2 September 2026
جرمن حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کی ناکام کوشش کے پیچھے روس کا ہاتھ تھا، جس کے ردِعمل میں برلن نے ماسکو کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات میں بون میں قائم روسی قونصل خانے کو بند کرنا اور برلن میں روسی ثقافتی مرکز ’رشین ہاؤس‘ کے ساتھ معاہدہ ختم کرنا شامل ہے۔ جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ اور وزیر خارجہ یوہان وادے فل نے بتایا کہ انٹیلی جنس شواہد اور پولیس تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ ملوث افراد روسی ریاستی اداروں کی ہدایات پر کام کر رہے تھے اور یہ واقعہ یورپ میں روس کی وسیع تر ہائبرڈ کارروائیوں کا حصہ ہے۔ دوسری جانب روس کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے جرمن الزامات کو روس مخالف کارروائی قرار دیتے ہوئے جوابی اقدام کا تنبیہ کیا ہے
متعلقہ عنوانات
امریکی سینیٹربرنی سینڈرز کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مستقل پابندی لگانے کی تجویز
4 September 2026
اسرائیلی انتہا پسند وزیر کا غزہ سے فلسطینیوں کی بیرون ملک منتقلی کا منصوبہ پیش
4 September 2026
ایران میں امریکی حملے میں شہید ہونے والے شہریوں کی تدفین کر دی گئی
4 September 2026
امریکی اقتصادی پابندیاں: ایران پر شدید معاشی دباؤ، مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ
4 September 2026
روسی ایس یو 57 ای لڑاکا طیارے سے لانچ ہونے والے اسٹیلتھ ڈرونز عالمی نمائش کیلئے تیار
4 September 2026
سعودی ولی عہد کا مصری صدر سے رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال
4 September 2026
جرمنی کی موجودہ قیادت نازی طرز عمل کی طرف لوٹ رہی ہے، دیمتری میدویدیف
4 September 2026
روس نے ایران سے ’دوری‘ اختیار کرنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا
4 September 2026