LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، چین کے دل ایک دوسرے سے جڑے اور ایک ساتھ دھڑکتے ہیں: وزیراعظم ایف بی آر کی انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت، سندھ بہت پیچھے رہ گیا: حافظ نعیم الرحمان آبنائے ہرمز میں 4 تجارتی جہازوں پر حملے، عالمی توانائی بحران کا خدشہ ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا عراق سے امریکی افواج کا انخلا مکمل، کل ’یوم خودمختاری‘ منانے کا اعلان پاکستان کا ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران جانی نقصان پر اظہار تعزیت پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں پارلیمانی امور پر مشاورت، اجلاس میں اہم معاملات زیر غور پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے کرسچن میرج بل 2026 کی منظوری دے دی پاکستان ایس سی او سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کیلئے پرعزم ہے: اسحاق ڈار ماسکو میں عالمی مذہبی کانفرنس، پاکستان سمیت 40 ممالک کے وفود کی شرکت آئی پی پیز نے ملک کی کمر توڑ دی، سسٹم کو بدل کر ضلعی معیشت پر جانا ہوگا، ایس ایم تنویر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے وکلا کی فہرست جیل حکام کے حوالے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کی سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات، الوداعی دورہ دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ

اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز پر سرکاری اشتہارات کی بندش،ادارتی آزادی پر براہِ راست حملہ

Web Desk

13 December 2025

صحافی تنظیموں اور میڈیا کےنمائندہ اداروں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز پر سرکاری اشتہارات کی بندش کو ادارتی آزادی پر براہِ راست حملہ اور میڈیا کو کنٹرول کرنے کی خطرناک کوشش قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی، جس میں پی بی اے، سی پی این ای، پی ایف یو جے، اے پی این ایس اور ایمنڈ شامل ہیں، نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے سرکاری اشتہارات کو میڈیا اداروں کے خلاف دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ پالیسی اظہارِ رائے کو محدود کرنے اور آزاد صحافت کو کمزور کرنے کی ایک منظم حکمتِ عملی ہے۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ اس غیر جمہوری اقدام کا سب سے نمایاں نشانہ ڈان گروپ ہے، جہاں ادارتی پالیسیوں اور غیر جانبدارانہ صحافت کے باعث طویل عرصے سے اخبار اور اب ٹی وی و ریڈیو کےاشتہارات بند کیے گئے ہیں۔ یہ اقدام اس بات کا اظہار ہے کہ میڈیااداروں کو معاشی نقصان پہنچا کر ان کی ادارتی آزادی سلب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
۔ اشتہارات کی بندش کی یہ کارروائیاں مستقبل کے مزید خطرناک اقدامات کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو نہ صرف صحافت بلکہ جمہوریت کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ میڈیا اداروں کے خلاف سرکاری اشتہارات کو بطور دباؤ استعمال کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔ بالخصوص ڈان گروپ پر لگائی گئی اشتہاری پابندیاں فی الفور ختم کی جائیں۔اور ایسا ماحول پیدا کرنے سے گریز کیا جائے جس کے نتیجے میں میڈیا ادارے کسی انتہائی اقدام پر مجبور
ہوں۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آزاد صحافت اور عوام کے حقِ معلومات کے لیے ہر سطح پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے