LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکیہ میں اہم ملاقاتیں، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال شہباز شریف اور ازبک صدر کی ملاقات، دوطرفہ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ترک مسلح افواج کے یوم فتح کی 104ویں سالگرہ، جی ایچ کیو راولپنڈی میں تقریب وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہے: عالمی ثالثی عدالت نیتن یاہو نے امریکا کو ایران کیخلاف جنگ میں دھکیلا: عباس عراقچی پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا اتحاد بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے: ترک وزیر خارجہ ایرانی حملے کی مذمت، یو اے ای کا جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان رات کے اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت خواہ ہیں: اویس لغاری قائمہ کمیٹی کا بیوروکریسی کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار، سی ڈی اے اور ڈی جی ہیلتھ کی کارکردگی پر برہمی سندھ کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز نہ ہونے کا انکشاف خلع کے معاملے میں حق مہر کی واپسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی: توہین عدالت درخواست کی جلد سماعت کی استدعا پھر مسترد معیشت کو بیرونی امداد سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب لے جا رہے ہیں: وزیر خزانہ

بینچ اور بار کے تعاون کے بغیر عدالتی اصلاحات کامیاب نہیں ہوسکتیں: چیف جسٹس

Web Desk

31 August 2026

کوئٹہ: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے تاکید کی ہے کہ بینچ اور بار کے باہمی اور مضبوط تعاون کے بغیر ملک میں عدالتی اصلاحات کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔

بلوچستان ہائیکورٹ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ملک کے عدالتی نظام کو صرف عدالتوں تک محدود رکھنے کے بجائے شہریوں اور سائلین کی ضروریات کے گرد مرکوز کرنا ہوگا تا کہ انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کا رخ کرنے والے شہریوں کو غیر ضروری مشکلات اور التوا کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی محض ایک ذریعہ ہے جبکہ حقیقی مقصد سائلین کو سستا اور شفاف انصاف فراہم کرنا ہے، اسی لیے عدالتی امور میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انصاف کی فراہمی کو تیز تر بنانے کے لیے کیا جانا چاہیے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے مزید کہا کہ بلوچستان کے دور دراز اور پس ماندہ علاقوں میں محدود وسائل اور درپیش سکیورٹی چیلنجز کے باوجود انصاف کی فراہمی کا عمل جاری ہے جو قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عام عوام کو ان کی دہلیز پر بروقت اور آسان انصاف فراہم کرنا عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو ایک پیج پر آ کر مشترکہ کاوشیں کرنا ہوں گی۔