LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

سندھ کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز نہ ہونے کا انکشاف

Web Desk

31 August 2026

کراچی: حکومتِ سندھ کو جمع کرائی گئی فائر سیفٹی رپورٹ میں صوبے کے 22 اہم ترین سرکاری ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ اور ایمرجنسی انتظامات کے حوالے سے شدید نقائص اور غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 1750 بستروں پر مشتمل سول ہسپتال کراچی اور 2208 بستروں کے حامل جناح ہسپتال میں فائر ایکسٹنگویشرز تو موجود ہیں لیکن فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز سرے سے غائب ہیں، جبکہ دونوں ہسپتالوں کی برقی وائرنگ بھی فوری مرمت طلب ہے۔ این آئی سی ایچ (NICH) میں 135 فائر ایکسٹنگویشرز میں سے 40 خراب نکلے، جبکہ لیاری جنرل ہسپتال، قطر ہسپتال اورنگی اور سعود آباد ہسپتال میں بھی الارم اور سپرنکلرز کا بنیادی نظام موجود نہیں ہے۔ سکھر کے جی ایم ایم سی (GMMC) ہسپتال کے بچوں کے وارڈ کا سیفٹی ایگزٹ بند ملا جبکہ لمس (LUMS) حیدرآباد اور جامشورو میں بھی الارم سسٹم ناپید ہے۔

دوسری جانب رپورٹ میں ایس ایم بی بی (SMBB) ٹراما سینٹر، کورنگی چلڈرن انسٹیٹیوٹ، سیہون انسٹیٹیوٹ اور جیکب آباد انسٹیٹیوٹ کے فائر سیفٹی انتظامات کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق این آئی سی وی ڈی (NICVD)، ایس آئی یو ٹی (SIUT) کراچی و سکھر، خیرپور میڈیکل کالج اور گمبٹ سمیت کئی بڑے اداروں نے فائر سیفٹی کا مکمل ڈیٹا ہی فراہم نہیں کیا، جس پر اعلیٰ حکام نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اصلاحات کی ہدایت کی ہے۔