LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل

فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان

Web Desk

20 August 2026

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کے بعد ملک میں ‘متحدہ اپوزیشن’ قائم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، مولانا فضل الرحمان نے اپنے وفد کے ہمراہ جس میں سینیٹر کامران مرتضیٰ اور مولانا واسع شامل تھے، قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی سے ان کے پارلیمانی چیمبر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر اپوزیشن اتحاد ‘تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان’ کے رہنما اخونزادہ حسین یوسفزئی، اسد قیصر اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور اور حکومت کی مبینہ یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحتیابی اور طبی سہولیات پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اگر معاملے پر ان کا اختیار ہوتا تو بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کر کے علاج یقینی بنایا جا چکا ہوتا۔

بعد ازاں مشترکہ میڈیا ٹاک کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ نے بتایا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی اپوزیشن قيادت کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد اصولی طور پر اتفاق ہوا ہے کہ ایوان کے اندر اور باہر اپوزیشن کو ایک پیج پر آ کر مشترکہ پارلیمانی کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کو مزید مستحکم بنانے کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں کا آل پارٹیز کانفرنس (APC) منعقد کرنے کے لیے سازگار ماحول بنایا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کو ساتھ ملانے سے متعلق صحافی کے سوال پر مولانا فضل الرحمان نے مختصر جواب دیا کہ پیپلز پارٹی اس وقت حکومت کا حصہ ہے، لہٰذا وہ اپوزیشن اتحاد میں شامل نہیں ہو سکتی۔