LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر مذاکرات ہونے چاہئیں: طاہر اندرابی دہلی میں کاکروچ پارٹی کا احتجاج، 250 ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو سٹیشنز بند بجلی اور گیس کے موجودہ سلیب اور کراس سبسڈی نظام ختم کرنے کی تیاری پی ٹی آئی کا لانگ مارچ سہیل آفریدی کی قیادت میں چارسدہ پہنچ گیا حرمین شریفین کی حرمت سرخ لکیر، عبور نہیں کیا جا سکتا: امام حرم شیخ السدیس گورنر راج یا ایمرجنسی؟ وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے متعلق اہم اجلاس طلب کرلیا روس سے ڈیزل خریدنے کا معاہدہ جنگ لمبی کرنے کیلئے سرمایہ کاری ہے، زیلنسکی نیپال میں سکول بس حادثے کا شکار، 4 طلبہ سمیت 5 افراد ہلاک، 14 زخمی امریکا کو کیوبا کیساتھ ایندھن اور دیگر اشیاء کی تجارت محدود کرنے کا حق نہیں: برونو روڈریگز روسی حملوں سے یوکرین میں مزید ہلاکتیں، زیلنسکی کا نیٹو سے دفاعی امداد کا مطالبہ سعودی عرب اپنی سلامتی کے دفاع کا حق رکھتا ہے، سعودی مندوب عبدالعزیز الواصل حوثیوں کا خطرہ اب یمن کا اندرونی معاملہ نہیں رہا، یمنی مندوب پاناما میں 7.7 شدت کا زلزلہ، متعدد ممالک میں سونامی کی وارننگ جاری ایران اب بھی امریکا کو جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، بلومبرگ روس جلد امریکا اور عالمی منڈی کو 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا: ٹرمپ

محمد علی درانی کا بہاولپور اور ہزارہ کو فوری ماڈل صوبے بنانے کا مطالبہ

Web Desk

19 August 2026

سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک میں انتظامی اصلاحات کے لیے بہاولپور اور ہزارہ کو فوری طور پر “ماڈل صوبے” بنانے کا زوردار مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا موجودہ نظام لنگڑا ہو چکا ہے اور ایک ٹانگ پر زیادہ دیر نہیں چل سکتا، لہٰذا جیسے جیسے مختلف علاقوں پر اتفاقِ رائے ہوتا جائے، نئے صوبے قائم کیے جانے چاہئیں۔

محمد علی درانی نے نشاندہی کی کہ بہاولپور اور ہزارہ کو صوبہ بنانے کی قراردادیں متعلقہ صوبائی اسمبلیوں سے پہلے ہی منظور ہو چکی ہیں اور محسن نقوی و میاں عامر محمود فارمولے کے تحت بھی ان کی آئینی ضرورت پوری ہو چکی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے ماہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اس معاملے کو باضابطہ طور پر اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہاولپور صوبہ بننے سے زرعی شعبے میں انقلاب آئے گا اور یہ ملک کی “فوڈ باسکٹ” ثابت ہوگا کیونکہ چولستان کا 64 لاکھ ایکڑ رقبہ تاحال غیر آباد ہے، جبکہ ہزارہ خطہ سیاحت اور معدنیات سے مالامال ہے۔ سابق وزیر نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی اخراجات نہیں بڑھیں گے بلکہ عوام پر براہِ راست ترقیاتی فنڈز خرچ ہوں گے، اور مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی یا دیگر سیاسی جماعتیں اس عوامی اور آئینی تقاضے کی مخالفت نہیں کریں گی۔