LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلاول بھٹو کا پی ٹی آئی کو انتہاپسندی کی سیاست ترک کرنے کا مشورہ اسد قیصر کا فضل الرحمان سے رابطہ آل پارٹیز کانفرنس کیلئے تھا: شوکت یوسفزئی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 10 سے 14 اکتوبر تک بارشوں کی پیشگوئی پی آئی اے کے بیڑے میں جدید ترین بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے شامل کرنے کا معاہدہ دھرنوں، احتجاج سے کاروبار، تعلیمی سرگرمیاں اور معیشت متاثر ہوتی ہے: سپیکر پنجاب اسمبلی وزیر خزانہ کی نیدرلینڈز کے کاروباری وفد سے ملاقات، سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال فیصل کریم کنڈی کا سہیل آفریدی کو مستعفی ہونے کا مشورہ، لانگ مارچ پر تنقید چیف جسٹس پاکستان کی بار نمائندگان سے مشاورتی نشست، ڈیجیٹل عدالتی اصلاحات پر بریفنگ حافظ نعیم الرحمان کا مفت تعلیم کے حق میں تحریک شروع کرنے کا اعلان ٹرمپ پھر محروم، امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی خاتون وکیل کے نام مکہ معاہدہ خطے میں استحکام کی ضمانت، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج ٹرمپ ایران پر نئے حملوں کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں: نیویارک ٹائمز بچوں کے خون سے سودا کرنے والوں سے کیا مذاکرات کریں: دانیال چودھری پاکستان اور ویٹیکن کا بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر اتفاق ماہ ستمبر 2026 کے دوران ملک میں 5 ہزار 241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ

وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ

Web Desk

17 August 2026

وفاقی آئینی عدالت نے کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں ایک اہم اور بڑا فیصلہ سناتے ہوئے سپر ٹیکس کے خلاف ٹیکس کریڈٹ کی ایڈجسٹمنٹ کو قانون کے مطابق بالکل جائز قرار دے دیا ہے، اور اس معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابقہ فیصلے کو کالعدم کر دیا ہے۔ جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ 6 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے کے تحت عدالت نے نجی موبائل کمپنی کی اپیلیں منظور کر لیں۔ عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ فائلنگ اور کٹوتی پر ملنے والے ٹیکس کریڈٹ سے سپر ٹیکس کو ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے، اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 168 کے تحت حاصل ہونے والا ٹیکس کریڈٹ ایک الگ اور مسلّمہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اہم نقطہ اٹھاتے ہوئے قرار دیا کہ کسی بھی ٹیکس دہندہ کو جائز ایڈجسٹمنٹ سے روک کر لمبے ریفنڈ کے عمل کی طرف دھکیلنا قانون کی منشا کے سراسر خلاف ہے، کیونکہ مالیاتی قوانین کی تعبیر ہمیشہ ٹیکس دہندگان کے فائدے اور سہولت کو پیشِ نظر رکھ کر کی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو ہدایت کی ہے کہ وہ نوٹس کے جواب میں ٹیکس دہندہ کے ایڈجسٹمنٹ کلیم کا قانون کے مطابق ازسرِنو جائزہے۔ واضح رہے کہ ایف بی آر نے نجی موبائل کمپنی کو سپر ٹیکس کی ادائیگی کا نوٹس جاری کیا تھا، جس پر کمپنی نے ایڈجسٹمنٹ کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم ہائیکورٹ کی جانب سے درخواست خارج کیے جانے کے بعد معاملہ آئینی عدالت کے سامنے آیا تھا۔