LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جنگ میں بے گھر لبنانیوں کی مدد کیلئے حزب اللہ کو ایران سے 20 کروڑ ڈالر موصول حوثیوں کے سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کی دھمکیاں، امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت روس کے یوکرین پر میزائل اور ڈرون حملے، بچوں سمیت 28 افراد ہلاک لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری امن فوج کی چوکی پر فائرنگ عالمی مالیاتی فنڈز کا جنگ سے متاثرہ یمن کیلئے 18 ماہ کا پروگرام منظور شام حوثیوں کیخلاف لڑنے کیلئے یمن میں اپنی فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، امریکی نیوز ویب سائٹ روس میں طاعون کے دوسرے مشتبہ کیس کی اطلاعات، عالمی برادری شدید تشویش میں مبتلا روسی صدر پیوٹن نے امریکا سے کشیدگی کم کرنے کیلئے ایران کو معاونت کی پیشکش کر دی افغانستان میں تبدیلی ناگزیر اور بہت قریب ہے،گلبدین حکمت یار کیمسٹری کا نوبیل انعام فرانس اور جاپان کے سائنسدانوں نے جیت لیا کے پی دہشتگردی کی لپیٹ میں، سہیل آفریدی کو بانی کا مقدمہ لڑنے کی فکر ہے: شرجیل میمن امریکی وزیر دفاع کا یو ایس ایس ابراہم لنکن کے عملے کو خراج تحسین قطر کے قریب آئل ٹینکر پر متعدد پروجیکٹائلز سے حملہ، ہلاکتوں کا خدشہ چند ہفتوں کے دوران شام میں تیل کی پائپ لائن پر تیسرا حملہ، ملوث افراد گرفتار ایران مذاکرات کے ساتھ مزاحمت اور استقامت کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا، مسعود پزشکیان

سٹیٹ بینک کی ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری، معاشی نمو 4.5 فیصد تک رہنے کی پیشگوئی

Web Desk

10 August 2026

سٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے اگست 2026ء کی ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں مالی سال 2027ء کے دوران ملک کی اقتصادی نمو (GDP Growth) 3.5 سے 4.5 فیصد کی حد میں رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازعات کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں، باربرداری (شپنگ) اور انشورنس کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم اس عالمی معاشی دھچکے کے باوجود پاکستان کے مالی سال 2026ء کے اقتصادی نتائج مجموعی طور پر توقعات کے مطابق رہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ سٹیٹ بینک کی محتاط زری پالیسی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ثانوی اثرات کو روکنے میں مدد ملی اور مہنگائی کے حوالے سے مارکیٹ اور اسٹیک ہولڈرز کی توقعات بھی قابو میں رہیں۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق، حکومت نے بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کے اضافے کو بروقت ملکی سطح پر منتقل کیا، جبکہ حکومتی سطح پر کفایت شعاری اور ہدف پر مبنی سبسڈی کی پالیسی نے مجموعی معاشی طلب کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ مالی سال 2027ء کے اختتام تک افراطِ زر (مہنگائی) اسٹیٹ بینک کے مقررہ ہدف کی بالائی حد کے قریب پہنچ کر مستحکم ہو جائے گی، جبکہ اس دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ذخائر کے حوالے سے مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ دسمبر 2026ء تک ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 20.20 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور مالی سال 2027ء کے اختتام تک اس میں مزید بہتری اور اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

تاہم، سٹیٹ بینک نے رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) صورتحال کو پاکستان کے معاشی منظر نامے کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں توانائی اور بنیادی اجناس کی قیمتیں توقعات سے زیادہ بڑھتی ہیں تو اس سے ملک کا معاشی استوار متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب سمیت دیگر ماحولیاتی خطرات کو بھی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک نے تنبیہ کی ہے کہ اگر ملکی سطح پر ساختی اصلاحات کی منتقلی میں تاخیر کی گئی تو اس سے قومی برآمدات اور ملکی پیداواری صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں