LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اور اسرائیل کے شام سے جوہری مواد ہٹانے کے لیے مذاکرات کامیاب بانی اور اہلیہ کی قید تنہائی: بیرسٹر سلمان نے تحریری دلائل جمع کرا دیئے یوکرینی صدر اور سعودی ولی عہد کا رابطہ، ڈرونز معاہدے سمیت مختلف امور پر گفتگو ملکی ترقی و خوشحالی میں اقلیتوں کا کردار انتہائی اہم ہے: فیصل کریم کنڈی ہانگ کانگ میں درجہ حرارت 42 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا سعودیہ کے شاہ سلمان ریلیف مرکز کا غزہ میں ’’مکہ سکول‘‘ کا قیام، ایک ہزار طلبہ مستفید ہونگے صدر ٹرمپ نے ول شارف کو نیا اسسٹنٹ ٹو دی پریذیڈنٹ اور وائٹ ہاؤس کونسل مقرر کردیا برطانیہ کا گمراہ ڈسکاؤنٹس اور سبسکرپشن فراڈ کیخلاف نئے اقدامات کا اعلان سعودی نئی فضائی کمپنی ریاض ایئر کا بنگلہ دیش کیلئے یومیہ پروازوں کا آغاز کولمبیا میں تباہ کن زلزلہ: 111 افراد ہلاک، 87 زخمی، کئی لاپتا، ایمرجنسی نافذ پاکستان میں آج اقلیتوں کا قومی دن منایا جارہا ہے امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کر دیں: صدر ٹرمپ کا دعویٰ امریکی فوجی اڈوں کی منتقلی کیلئے بغداد اور واشنگٹن میں رابطے جاری میر رضا قتل کیس: مقتول کے معدے سے تیزاب کی موجودگی کے شواہد مل گئے امریکا سفارت کاری میں ناکامی کے بعد پابندیوں کا سہارا لیتا ہے: اسماعیل بقائی

حماس کا امریکا سے اسرائیل پر غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کیلئے دباؤ ڈالنے کا مطالب

Web Desk

9 August 2026

فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ امن منصوبے اور طے شدہ روڈ میپ پر عملدرآمد کا پابند بنانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم نے ایک بیان میں کہا کہ چونکہ امریکہ امن معاہدے کا ضامن ہے، اس لیے اس کی اخلاقی و سیاسی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نیتن یاہو حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ امن منصوبے کے اگلے مراحل کو تسلیم اور ان پر عمل کرے۔

باسم نعیم نے خبردار کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کی خاطر اس اہم امن منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے سے روکا جائے۔ انہوں نے عالمی ثالثوں اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو طے شدہ معاہدوں کی پاسداری پر آمادہ کریں۔ حماس کا یہ اہم ردعمل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے حالیہ غزہ امن منصوبے کو مسترد کرنے اور معاہدے کی شقوں سے انحراف کے بعد سامنے آیا ہے۔