LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مسلسل اصلاحات اور مضبوط ذخائرپاکستان کے معاشی منظر نامےکو سہارا دے رہے ہیں: اے ڈی بی او آئی سی مسئلہ کشمیر کو عالمی ایجنڈے پر سرفہرست رکھے: اسحاق ڈار پاکستان اور سعودی عرب: بھائی چارے سے بالاتر ایک اتحاد، 96 واں سعودی قومی دن پی ٹی آئی لانگ مارچ: پنجاب حکومت کی فوج و رینجرز کی تعیناتی کی درخواست پنجاب بھر میں انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے سالانہ امتحانات کے نتائج جاری ایران نے اپنا مؤقف اور شرائط امریکا تک پہنچا دیں: اسماعیل بقائی سعودی قومی دن پر صدرِ مملکت اور وزیر اعظم کی شاہ سلمان اور محمد بن سلمان کو مبارکباد اقتصادی جائزہ مذاکرات کیلئے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا علم اور اخلاق جارح دشمن کا ہاتھ کاٹ سکتے ہیں، ایرانی سپریم لیڈر نیویارک میں امریکی و ایرانی وفود کی ملاقات امریکا کے اصرار پر ہوئی، ایرانی میڈیا بحیرہ احمر کے راستے پاکستان کیلئے سعودی خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع وائٹ ہاؤس نے ’ٹرمپ ٹی وی‘ کے نام سے 24 گھنٹے چلنے والا چینل لانچ کر دیا ایران کے پڑوسی ممالک کا کشیدگی کے خاتمے کیلئے سفارتکاری عمل کی بحالی پر زور آئی ایم ایف کا یوکرین کو معاشی استحکام برقرار رکھنے کیلئے فنڈنگ کا فیصلہ ابتدائی ملاقات میں ٹرمپ کے ساتھ اچھا رابطہ قائم ہوا ہے، برطانوی وزیراعظم

صدر ٹرمپ نے فی الحال ایران پر حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کر لیا: امریکی میڈیا

Web Desk

26 July 2026

امریکی میڈیا اداروں ‘نیویارک ٹائمز’، ‘ایگزیوس’، ‘سی این این’ اور ‘اے پی’ کی رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جارحانہ فوجی کارروائیوں میں فی الحال شدت نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق یہ قدم دفاعی حکام کی جانب سے پیٹریاٹ میزائلوں کے محدود ہوتے ذخائر اور خلیج فارس میں عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے، جس کے بعد مسلسل دو راتوں سے امریکی فضائی حملے روک دیے گئے ہیں۔ ‘نیویارک ٹائمز’ نے بتایا کہ جنرل ڈین کین اور نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹرمپ کو فضائی دفاعی صلاحیتیں متاثر ہونے اور جنگ کے طویل اثرات سے خبردار کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے ان رپورٹس پر بظاہر موقف دیا ہے کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب عمان کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تہران کے ساتھ معاہدے کی پیشرفت کے لیے تہران میں موجود ہے۔