LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسٹیٹ بینک اور بینکنگ انڈسٹری کا اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ‘پاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم’ کا اجراء میر رضا کے اہلخانہ کی سینئر پولیس افسران کو طلب کرنے کی درخواست مسترد بحرالکاہل میں بننے والا طوفان، نولو کیٹیگری 1 کے سمندری طوفان میں تبدیل این ڈی ایم اے کا 25 سے 30 ستمبر تک ملک کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا الرٹ جاری سعودیہ پر حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ فوجی حکام کا ہنگامی اجلاس طلب عباس عراقچی کی روسی وزیر خارجہ سے ملاقات، تنازع کے سفارتی حل پر زور پی ٹی آئی آج یا کل اسلام آباد مارچ ختم کرنے کا اعلان کردے گی: فیصل کریم کنڈی موسمیاتی اہداف کے ثمرات عوام اور مقامی کمیونٹیز تک پہنچنے چاہیے، وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی بحرینی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق چمن سیکٹر پر افغان جارحیت اور دراندازی کی کوشش ناکام، متعدد طالبان ہلاک جنگ ختم کرنے کا فیصلہ امریکا کو کرنا ہے، ایران لڑائی جاری نہیں رکھنا چاہتا: پزشکیان وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں امریکی کاروباری کونسلز کے وفود سے ملاقات امریکا نے شام کو 36 چوری شدہ نوادرات واپس کر دیے اقوام متحدہ کا عالمی امن کیلئے پاکستان کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف یہ آخری کوشش ہوگی اور پی ٹی آئی پھر کبھی اسلام آباد کا رخ نہیں کرے گی: خواجہ آصف

ایرانی وارننگ پر برطانیہ کا اہم بیان

Web Desk

23 July 2026

ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے امریکی بمبار طیاروں کو برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے پر دی جانے والی سخت وارننگ کے بعد برطانیہ نے واضح کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج ملک کے دفاع اور کسی بھی قسم کے حملے سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

برطانوی حکومت کے ترجمان نے ایرانی دھمکی کے جواب میں بیان دیتے ہوئے کہا: “ہماری مسلح افواج برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، چاہے خطرہ ہماری اپنی سرزمین پر ہو یا بیرونِ ملک سے۔ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے چوبیس گھنٹے (24/7) مستعد ہے۔”

حکومتی حکام نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ برطانیہ کے فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون کے عین مطابق اور محدود پیمانے پر ایک مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں میں استعمال ہونے والی ایرانی میزائل سائٹس اور عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔ ترجمان نے مزید زور دیا کہ برطانیہ خطے میں کسی وسیع تر جنگ یا تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہتا، تاہم اپنے شہریوں، مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔