LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار ایران کے جوابی حملے: امریکی فوجی اڈوں، طیاروں، دیگر نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں اماراتی وزیر خارجہ کی امریکی مشیر مسعد بولس سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال صدر ٹرمپ کا امریکا میں شرح سود ایک فیصد یااس سے کم کرنے کا مطالبہ معرکہ حق میں عظیم فتح سے پاکستان کو دنیا میں نئی پہچان ملی: احسن اقبال امریکی فیڈرل ریزرو نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا غم انسان کی سوچ، فیصلہ کرنیکی صلاحیت اور یادداشت کو متاثر کرسکتا ہے: کنگ چارلس

افغانستان میں غذائی بحران، 90 فیصد بچے متاثر، یونیسیف کی نئی رپورٹ جاری

Web Desk

14 July 2026

اقوام متحدہ کے بچوں کے فلاحی ادارے “یونیسیف” نے افغانستان میں جاری شدید غذائی بحران پر ایک ہنگامی الرٹ جاری کیا ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں وسیع غذائی عدم تحفظ، ناقص نظامِ صحت اور صاف پانی کی قلت کے باعث تقریباً 37 لاکھ معصوم بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو چکے ہیں۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق، 90 فیصد افغان بچوں کو روزمرہ کی خوراک میں صحت مند نشوونما کے لیے ضروری اجزاء میسر نہیں، جبکہ فوری علاج اور اضافی خوراک کے محتاج 85 فیصد بچوں کی عمریں دو سال سے بھی کم ہیں۔ اس بحران کے نتیجے میں افغان لڑکوں کے مقابلے میں بچیوں میں جسمانی کمزوری اور لاغر پن کی شرح تشویشناک حد تک بڑھی ہے، جس سے بچوں کی اموات کے خطرات 6 گنا بڑھ چکے ہیں۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں، انتہا پسندانہ نظریاتی ایجنڈے اور انتظامی نااہلی نے عام شہریوں کو بھوک اور افلاس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، جہاں معاشی استحکام اور انسانی جانیں بچانے کے بجائے مسلح گروہوں کی پشت پناہی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔