LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایاز صادق کے چیمبر میں پیپلز پارٹی اور حکومتی وفود کی ملاقات، نئے بلز پر تحفظات کا اظہار امریکا کی مغربی ایشیا کو سکیورٹی ضمانتیں دینے میں ناکامی واضح ہوچکی: محسن رضائی پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہتے ہیں، حکومت کو 10 روز کی مہلت دے رہے: حافظ نعیم الرحمٰن فیصلہ سنا چکے، سندھ کی قسمت کا فیصلہ یہاں کے عوام ہی کر سکتے ہیں: بلاول بھٹو برطانیہ میں امریکی ایئربیس واقعے میں ملوث دو افراد پر فرد جرم عائد اسلام آباد ماڈل جیل کی تعمیر مکمل، افتتاح کے بعد قیدیوں کو منتقل کیا جائے گا: محسن نقوی 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کیس: انسدادِ دہشت گردی عدالت نے حماد اظہر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ریلوے نے آؤٹ سورس ٹرینوں میں بھی رعایتیں دینا لازمی قرار دے دیا پرائیویٹ حج اسکیم میں 80 فیصد بکنگ مکمل: عازمین نے 57.5 ارب روپے جمع کروا دیے، وزارتِ مذہبی امور کی ہدایت قومی اسمبلی میں یومِ سیاہ کشمیر پر بھارت کے خلاف مذمتی قرار داد منظور ملتان: زیرتعمیر عمارت کی چھت گرنے سے مزدور ملبے تلے دب گئے، ایک جاں بحق سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، معلوماتی راہداری عوام کو قریب لائےگی: عطا تارڑ وکلاء نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی پاکستان نے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی مخالفت کر دی قصور: 2 نابالغ بچیوں کے زبردستی نکاح کی کوشش ناکام بنا دی گئی

پاکستان کے مایہ ناز لوک اور صوفی گلوکارعلّن فقیر کی آج برسی منائی جارہی ہے

Web Desk

4 July 2026

سندھ کی دھرتی سے ابھرنے والی امن، محبت اور تصوف کی لازوال آواز، مایہ ناز لوک اور صوفی گلوکار علّن فقیر کی برسی آج عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔ علّن فقیر محض ایک گلوکار نہیں بلکہ صوفیانہ روایات کے سچے امین تھے، جنہوں نے سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔

ان کا مخصوص اندازِ گائیکی، سر پر سندھی پگڑی، ہاتھ میں یکتارا اور چہرے پر رقص کرتی مسکراہٹ ان کی پہچان تھی۔ معروف گلوکار محمد علی شہکی کے ساتھ ان کا گایا ہوا مقبولِ عام نغمہ “تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا” آج بھی دنیا بھر میں زبان زدِ عام ہے اور سننے والوں پر وجد طاری کر دیتا ہے۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے موسیقی کے شعبے میں گراں قدر خدمات پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (پرائیڈ آف پرفارمنس) سے بھی نوازا گیا۔ تصوف کے رنگ میں رنگا یہ درویش صفت فنکار 4 جولائی 2000ء کو اس فانی دنیا سے کوچ کر گیا تھا، لیکن ان کا یکتارا، ان کی تانیں اور ان کا امن و محبت کا پیغام آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔