نوجوان پہلے سے زیادہ تیزی سے بوڑھے ہو رہے ہیں، تحقیق
Web Desk
29 June 2026
واشنگٹن: دنیا بھر میں 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز کے درمیان ایک نئی اور چونکا دینے والی سائنسی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ نوجوان نسل گزشتہ نسلوں کے مقابلے میں حیاتیاتی طور پر زیادہ تیزی سے عمر رسیدہ (Accelerated Biological Aging) ہو رہی ہے، جو کم عمری میں کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرات کی ایک بنیادی تزویراتی وجہ ہو سکتی ہے۔
معروف سائنسی جریدے ‘جرنل نیچر میڈیسن’ (Journal Nature Medicine) میں شائع ہونے والی اس جامع بائیو میڈیکل تحقیق کے مطابق، نسل در نسل حیاتیاتی عمر کے بڑھنے کی رفتار میں نمایاں فرق دیکھا گیا ہے، جس کے اہم سائنسی تقابل درج ذیل ہیں:
-
1960 اور 1970 کی دہائی: 1965 سے 1974 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کی حیاتیاتی عمر (Biological Age) ان سے پہلی نسل یعنی 1950 سے 1954 کے درمیان پیدا ہونے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پائی گئی۔
-
1990 کی دہائی (ملینیئلز): اسی مروجہ تسلسل کے تحت 1990 سے 1999 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد میں بھی حیاتیاتی بڑھاپا، 1965 سے 1969 کے درمیان پیدا ہونے والوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ دیکھا گیا۔
واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن (Washington University School of Medicine) کے نامور ماہر اور اس تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ین کاؤ کے مطابق، بعض نوجوانوں کے جسم میں خلیاتی (Cellular) اور سالماتی (Molecular) سطح پر عمر بڑھنے کے سائنسی آثار معمول کے وقت سے بہت پہلے ظاہر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈی این اے (DNA) کی سطح پر ہونے والی یہی تبدیلیاں اور خلیات کا قبل از وقت بوڑھا ہونا براہِ راست کم عمری میں کینسر کے مروجہ کیسز سے منسلک ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کینسر کو روایتی اور تاریخی طور پر بڑھاپے اور ضعیف العمری کی بیماری سمجھا جاتا ہے، لیکن گزشتہ تین دہائیوں کے دوران نوجوانوں میں اس کے پھیلاؤ میں غیر معمولی تزویراتی اضافہ ہوا ہے۔ ‘برٹش میڈیکل جرنل’ (BMJ) کی ایک وبائی رپورٹ کے مطابق، 1990 کے بعد سے اب تک دنیا بھر میں 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر کی نئی تشخیص کے کیسز میں 79 فیصد کا تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، یہ مہلک مرض اب معصوم بچوں کو بھی تیزی سے نشانہ بنا رہا ہے۔ یورپی کینسر انفارمیشن سسٹم (ECIS) کے مروجہ اعداد و شمار کے مطابق، سال 2022 کے دوران یورپی یونین کے 27 رکن ممالک میں تقریباً 13 ہزار 800 بچوں اور نوجوانوں میں کینسر کی باقاعدہ تشخیص ہوئی۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس مروجہ رجحان کو روکنے کے لیے لائف سٹائل میں تبدیلیاں، ماحولیاتی عوامل پر کنٹرول اور خلیاتی سوزش (Inflammation) کو کم کرنے والے تزویراتی ہیلتھ فریم ورکس پر فوری کام کرنے کی ضرورت ہے۔
متعلقہ عنوانات
ورزش سے دل پر مرتب ہونیوالے ایک حیرت انگیز اثر کا انکشاف
27 October 2026
خیبر پختونخوا میں ایم پاکس کے 4 نئے تصدیق شدہ کیسز رپورٹ
27 October 2026
کینسر کی واپسی کو 42 فیصد تک کم کرنے والی ویکسین تیار
27 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
27 October 2026
ادویات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ قابلِ قبول نہیں: احد چیمہ
26 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
26 October 2026
سانس لینے کی مخصوص مشقیں ذہنی کیفیت تبدیل کر سکتی ہیں: تحقیق
26 October 2026
وزیراعظم 27 اکتوبر کو پاک چائنا فرینڈشپ ہسپتال کا افتتاح کریں گے: مصطفیٰ کمال
26 October 2026