LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مالی سال کے آخری ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب 48 کروڑ ڈالر سے زائد ہوگئے جنوبی لبنان سے انخلا حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے سے مشروط ہے: اسرائیل ایران نے قطر میں امریکا سے مجوزہ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی کہوٹہ میں قیدیوں کی وین سے 14 فرار، 4 دوبارہ گرفتار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن، 6 وکلا کی فہرست جیل حکام کو جمع سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر کا آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی پر زور پانی پاکستان کی بقا کا معاملہ، کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: حکومتِ پاکستان افغان ناظم الامور کو کراچی حملے کے حوالے سے ڈیمارش تھمایا گیا۔ ترجمان سپریم کورٹ آزاد کشمیرکا پی ٹی آئی ک رجسٹریشن کا عبوری فیصلہ معطل کر دیا عوام پر رعب جھاڑنے والوں کی پیرا فورس میں کوئی جگہ نہیں: مریم نواز پنجاب میں یونین کونسلز کی حدبندی کا نظرثانی شدہ شیڈول جاری سانحہ گل پلازہ: چالان پراسیکیوشن کو جمع، مارکیٹ یونین عہدیداران ملزم نامزد کراچی سمیت ملک بھر کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان پنڈی کہوٹہ روڈ پر اسلام آباد پولیس نے اپوزیشن قیادت کو کشمیر جانے سے روک دیا لاہور ہائیکورٹ: آئی جی پنجاب کو فوری کریکٹر سرٹیفکیٹ کے فارمیٹس تبدیل کرنے کی ہدایت

الزائمر سے تحفظ کے لیے اومیگا تھری سپلیمنٹس بے اثر قرار

Web Desk

29 June 2026

کالی فورنیا: ایک جدید اور جامع طبی تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ اومیگا تھری فش آئل (Omega-3 Fish Oil) یا الجی (Algae) سے تیار کردہ مشہورِ زمانہ سپلیمنٹس الزائمر (Alzheimer’s)، ڈیمنشیا (Dementia) یا بڑھتی عمر کے ساتھ یادداشت میں ہونے والی کمی سے بچاؤ کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔

اس اہم سائنسی ریسرچ کے سربراہ اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا (USC) کے نامور ماہرِ اعصاب (Neurologist) ڈاکٹر حسین یاسین کے مطابق، کیے گئے ایک منظم کلینیکل ٹرائل کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ اومیگا تھری کے مصنوعی سپلیمنٹس باقاعدگی سے استعمال کرنے والے افراد کی یادداشت، عمومی دماغی صلاحیت (Cognitive Function) یا دماغی خلیات کے تحفظ میں کوئی بھی واضح اور نمایاں مروجہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔

ڈاکٹر حسین یاسین نے تحقیق کے تزویراتی نتائج پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو صرف مصنوعی سپلیمنٹس پر انحصار کرنے کے بجائے ایک پائیدار اور صحت مند طرزِ زندگی (Healthy Lifestyle) اپنانا چاہیے، جو دماغی امراض کے خلاف زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے بہتر دماغی صحت کے لیے درج ذیل مصلحانہ اقدامات اور قدرتی ذرائع تجویز کیے ہیں:

  • طرزِ زندگی میں تبدیلیاں: روزانہ کی بنیاد پر باقاعدہ ورزش، ذہنی دباؤ (Stress) میں ہر ممکن کمی اور رات کی معیاری و پرسکون نیند۔

  • غذائی عادات: پودوں پر مبنی متوازن غذا (Plant-based Diet) کا استعمال۔

  • اومیگا تھری کے قدرتی ذرائع: سپلیمنٹس کی جگہ اومیگا تھری سے بھرپور قدرتی اشیاء جیسے چکنائی والی مچھلی (Fatty Fish)، خشک میوہ جات (Nuts) اور مختلف غذائی بیجوں (Seeds) کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا۔

انہوں نے بین الاقوامی طرزِ زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید واضح کیا کہ بحیرہ روم کے خطے (Mediterranean Region) کے لوگوں میں دیکھی جانے والی بہتر دماغی صحت اور طویل عمری کا تعلق صرف اومیگا تھری کے استعمال سے نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل راز ان کا مجموعی طور پر صحت مند طرزِ زندگی، روایتی متوازن غذا، مسلسل جسمانی سرگرمی اور روزمرہ زندگی میں انتہائی کم ذہنی دباؤ میں پنہاں ہے۔