LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز میں لڑائی، 24 گھنٹوں میں 68 ہلاکتیں اسحاق ڈار سے ترک سفیر، برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقاتیں، علاقائی صورتحال پر مشاورت پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان کا سلسلہ برقرار وزیراعظم کا زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اظہارِ تشکر میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کا سینئر پولیس افسران سے تحریری جواب لینے کا فیصلہ جماعت اسلامی نے لاہور مال روڈ دھرنا 33 روز بعد ختم کر دیا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں: 17 دہشت گرد ہلاک، 9 جوان شہید، بھاری اسلحہ برآمد شہداء کی عظیم قربانیاں قوم کیلئے مشعلِ راہ، لہو رائیگاں نہیں جائے گا: صدر، وزیراعظم امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر سرکہ پھینکنے والے شخص کو سزا سنا دی گئی

الزائمر سے تحفظ کے لیے اومیگا تھری سپلیمنٹس بے اثر قرار

Web Desk

29 June 2026

کالی فورنیا: ایک جدید اور جامع طبی تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ اومیگا تھری فش آئل (Omega-3 Fish Oil) یا الجی (Algae) سے تیار کردہ مشہورِ زمانہ سپلیمنٹس الزائمر (Alzheimer’s)، ڈیمنشیا (Dementia) یا بڑھتی عمر کے ساتھ یادداشت میں ہونے والی کمی سے بچاؤ کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔

اس اہم سائنسی ریسرچ کے سربراہ اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا (USC) کے نامور ماہرِ اعصاب (Neurologist) ڈاکٹر حسین یاسین کے مطابق، کیے گئے ایک منظم کلینیکل ٹرائل کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ اومیگا تھری کے مصنوعی سپلیمنٹس باقاعدگی سے استعمال کرنے والے افراد کی یادداشت، عمومی دماغی صلاحیت (Cognitive Function) یا دماغی خلیات کے تحفظ میں کوئی بھی واضح اور نمایاں مروجہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔

ڈاکٹر حسین یاسین نے تحقیق کے تزویراتی نتائج پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو صرف مصنوعی سپلیمنٹس پر انحصار کرنے کے بجائے ایک پائیدار اور صحت مند طرزِ زندگی (Healthy Lifestyle) اپنانا چاہیے، جو دماغی امراض کے خلاف زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے بہتر دماغی صحت کے لیے درج ذیل مصلحانہ اقدامات اور قدرتی ذرائع تجویز کیے ہیں:

  • طرزِ زندگی میں تبدیلیاں: روزانہ کی بنیاد پر باقاعدہ ورزش، ذہنی دباؤ (Stress) میں ہر ممکن کمی اور رات کی معیاری و پرسکون نیند۔

  • غذائی عادات: پودوں پر مبنی متوازن غذا (Plant-based Diet) کا استعمال۔

  • اومیگا تھری کے قدرتی ذرائع: سپلیمنٹس کی جگہ اومیگا تھری سے بھرپور قدرتی اشیاء جیسے چکنائی والی مچھلی (Fatty Fish)، خشک میوہ جات (Nuts) اور مختلف غذائی بیجوں (Seeds) کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا۔

انہوں نے بین الاقوامی طرزِ زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید واضح کیا کہ بحیرہ روم کے خطے (Mediterranean Region) کے لوگوں میں دیکھی جانے والی بہتر دماغی صحت اور طویل عمری کا تعلق صرف اومیگا تھری کے استعمال سے نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل راز ان کا مجموعی طور پر صحت مند طرزِ زندگی، روایتی متوازن غذا، مسلسل جسمانی سرگرمی اور روزمرہ زندگی میں انتہائی کم ذہنی دباؤ میں پنہاں ہے۔