LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

الزائمر سے تحفظ کے لیے اومیگا تھری سپلیمنٹس بے اثر قرار

Web Desk

29 June 2026

کالی فورنیا: ایک جدید اور جامع طبی تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ اومیگا تھری فش آئل (Omega-3 Fish Oil) یا الجی (Algae) سے تیار کردہ مشہورِ زمانہ سپلیمنٹس الزائمر (Alzheimer’s)، ڈیمنشیا (Dementia) یا بڑھتی عمر کے ساتھ یادداشت میں ہونے والی کمی سے بچاؤ کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔

اس اہم سائنسی ریسرچ کے سربراہ اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا (USC) کے نامور ماہرِ اعصاب (Neurologist) ڈاکٹر حسین یاسین کے مطابق، کیے گئے ایک منظم کلینیکل ٹرائل کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ اومیگا تھری کے مصنوعی سپلیمنٹس باقاعدگی سے استعمال کرنے والے افراد کی یادداشت، عمومی دماغی صلاحیت (Cognitive Function) یا دماغی خلیات کے تحفظ میں کوئی بھی واضح اور نمایاں مروجہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔

ڈاکٹر حسین یاسین نے تحقیق کے تزویراتی نتائج پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو صرف مصنوعی سپلیمنٹس پر انحصار کرنے کے بجائے ایک پائیدار اور صحت مند طرزِ زندگی (Healthy Lifestyle) اپنانا چاہیے، جو دماغی امراض کے خلاف زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے بہتر دماغی صحت کے لیے درج ذیل مصلحانہ اقدامات اور قدرتی ذرائع تجویز کیے ہیں:

  • طرزِ زندگی میں تبدیلیاں: روزانہ کی بنیاد پر باقاعدہ ورزش، ذہنی دباؤ (Stress) میں ہر ممکن کمی اور رات کی معیاری و پرسکون نیند۔

  • غذائی عادات: پودوں پر مبنی متوازن غذا (Plant-based Diet) کا استعمال۔

  • اومیگا تھری کے قدرتی ذرائع: سپلیمنٹس کی جگہ اومیگا تھری سے بھرپور قدرتی اشیاء جیسے چکنائی والی مچھلی (Fatty Fish)، خشک میوہ جات (Nuts) اور مختلف غذائی بیجوں (Seeds) کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا۔

انہوں نے بین الاقوامی طرزِ زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید واضح کیا کہ بحیرہ روم کے خطے (Mediterranean Region) کے لوگوں میں دیکھی جانے والی بہتر دماغی صحت اور طویل عمری کا تعلق صرف اومیگا تھری کے استعمال سے نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل راز ان کا مجموعی طور پر صحت مند طرزِ زندگی، روایتی متوازن غذا، مسلسل جسمانی سرگرمی اور روزمرہ زندگی میں انتہائی کم ذہنی دباؤ میں پنہاں ہے۔