LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن

الزائمر سے تحفظ کے لیے اومیگا تھری سپلیمنٹس بے اثر قرار

Web Desk

29 June 2026

کالی فورنیا: ایک جدید اور جامع طبی تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ اومیگا تھری فش آئل (Omega-3 Fish Oil) یا الجی (Algae) سے تیار کردہ مشہورِ زمانہ سپلیمنٹس الزائمر (Alzheimer’s)، ڈیمنشیا (Dementia) یا بڑھتی عمر کے ساتھ یادداشت میں ہونے والی کمی سے بچاؤ کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔

اس اہم سائنسی ریسرچ کے سربراہ اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا (USC) کے نامور ماہرِ اعصاب (Neurologist) ڈاکٹر حسین یاسین کے مطابق، کیے گئے ایک منظم کلینیکل ٹرائل کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ اومیگا تھری کے مصنوعی سپلیمنٹس باقاعدگی سے استعمال کرنے والے افراد کی یادداشت، عمومی دماغی صلاحیت (Cognitive Function) یا دماغی خلیات کے تحفظ میں کوئی بھی واضح اور نمایاں مروجہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔

ڈاکٹر حسین یاسین نے تحقیق کے تزویراتی نتائج پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو صرف مصنوعی سپلیمنٹس پر انحصار کرنے کے بجائے ایک پائیدار اور صحت مند طرزِ زندگی (Healthy Lifestyle) اپنانا چاہیے، جو دماغی امراض کے خلاف زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے بہتر دماغی صحت کے لیے درج ذیل مصلحانہ اقدامات اور قدرتی ذرائع تجویز کیے ہیں:

  • طرزِ زندگی میں تبدیلیاں: روزانہ کی بنیاد پر باقاعدہ ورزش، ذہنی دباؤ (Stress) میں ہر ممکن کمی اور رات کی معیاری و پرسکون نیند۔

  • غذائی عادات: پودوں پر مبنی متوازن غذا (Plant-based Diet) کا استعمال۔

  • اومیگا تھری کے قدرتی ذرائع: سپلیمنٹس کی جگہ اومیگا تھری سے بھرپور قدرتی اشیاء جیسے چکنائی والی مچھلی (Fatty Fish)، خشک میوہ جات (Nuts) اور مختلف غذائی بیجوں (Seeds) کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا۔

انہوں نے بین الاقوامی طرزِ زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید واضح کیا کہ بحیرہ روم کے خطے (Mediterranean Region) کے لوگوں میں دیکھی جانے والی بہتر دماغی صحت اور طویل عمری کا تعلق صرف اومیگا تھری کے استعمال سے نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل راز ان کا مجموعی طور پر صحت مند طرزِ زندگی، روایتی متوازن غذا، مسلسل جسمانی سرگرمی اور روزمرہ زندگی میں انتہائی کم ذہنی دباؤ میں پنہاں ہے۔