LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی بمباری سے ایران کے ساحلی شہر سیرک میں ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور تباہ، جزیرہ قشم میں بھی دھماکے امریکہ جنوبی لبنان سے انخلا کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے: لبنانی صدر لبنان کے ساتھ معاہدہ ایران اور حزب اللہ کیلئے دھچکا ہے، نیتن یاہو وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاک افراد کی تعداد 1 ہزار 430 ہوگئی اسرائیلی فوج کی لبنان میں موجودگی کو توسیع دینے پر لبنانی شہریوں کا شدید احتجاج تجارتی جہاز پر حملے کا جواب، امریکہ نے ایک بار پھر ایران پر حملہ کر دیا امریکی ثالثی میں ہونیوالے معاہدے سے لبنانی علاقے اسرائیل میں ضم ہونےکاخدشہ ہے، حزب اللہ نےلبنان اسرائیل معاہدہ مسترد کر دیا سعودی عرب نے 3 ممالک پر سفری پابندیاں عائد کردیں پاکستان اور ایران دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کیلئے پُرعزم اسرائیلی فوج کا اسماعیل ہنیہ کے بھتیجے کو شہید کرنے کا دعویٰ بحرین پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے، قطر، یو اے ای، کویت اور جی سی سی کی مذمت غزہ میں اسرائیل کا فلسطینی پولیس گاڑی پر ڈرون حملہ، تین اہلکار شہید کراچی میں فائرنگ اور دھماکے کی اطلاعات، وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس فرانس اور یورپ میں جان لیوا ہیٹ ویو کی اصل وجہ ‘اومیگا بلاک’! آخر یہ کیا ہے؟ پہاڑی اور بالائی علاقوں میں گلیشئر پگھلنے اورممکنہ خطرات کا الرٹ جاری کردیا گیا۔

وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاک افراد کی تعداد 1 ہزار 430 ہوگئی

Web Desk

27 June 2026

وینزویلا میں آنے والے شدید اور تباہ کن زلزلوں کے نتیجے میں جانی نقصان کی تعداد تیزی سے بڑھتے ہوئے 1 ہزار 430 ہو گئی ہے۔ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، ان ہولناک زلزلوں میں اب تک 3 ہزار 238 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جنہیں مختلف ہسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز نے باضابطہ طور پر ان ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار کی تصدیق کی ہے۔ زلزلے سے تباہ ہونے والی رہائشی اور تجارتی عمارتوں کا ملبہ اٹھانے کا کام تیز کر دیا گیا ہے، تاہم حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبے تلے مزید افراد کی موجودگی کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔یاد رہے کہ بدھ کے روز آنے والے ان زلزلوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.2 اور 7.5 ریکارڈ کی گئی تھی، جس نے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا۔ حکومت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ ہے اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔