LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی مسلح افواج کا کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن، مؤثر اور تباہ کن جواب دینے کا اعلان معاشی دباؤ ایران کو معاہدے کی طرف آنے پر مجبور کرے گا: جے ڈی وینس شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق ایران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور دشمن سے آخری سانس تک لڑنے کا عزم بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری پکڑی گئی الحمدللہ !عمران خان مکمل صحت مند اور فٹ ہیں: ڈاکٹر عظمیٰ خان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو دھرنا ختم نہیں کریں گے: حافظ نعیم الرحمان متحدہ اپوزیشن کا پارلیمنٹ میں مشترکہ کردار ادا کرنے کا اعلان اسحاق ڈار سے ملائیشیا کے وزیر داخلہ کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال پاکستان سمیت 12 ممالک کی شمال مغربی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت غزہ فلوٹیلا پر حملہ، ترکیہ نے نیتن یاہو کے عالمی گرفتاری وارنٹ جاری کر دیئے اپوزیشن کا 27 ستمبر کا احتجاج اور لانگ مارچ برقرار رکھنے کا فیصلہ حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں: سہیل آفریدی

آبنائے ہرمز کی ٹریفک معمول کی طرف واپس آ گئی ہے، میری ٹائم ٹریکر

Web Desk

25 June 2026

ایک معروف بین الاقوامی میری ٹائم ٹریکر کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ میں بحری ٹریفک اب تیزی سے معمول کی طرف واپس آ رہی ہے اور تجارتی مال بردار سمیت تیل بردار بحری جہازوں کی آمدورفت احتیاط کے ساتھ بحال ہو رہی ہے۔

برسلز میں قائم مانیٹرنگ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، 23 جون کو ریکارڈ 31 بحری جہازوں نے کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز کو عبور کیا ہے۔ ان میں عالمی تجارتی سامان اور توانائی (خام تیل و گیس) سے منسلک دونوں اقسام کے جہاز شامل ہیں جو اب بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی اگلی منزلوں کی جانب آگے بڑھ رہے ہیں۔

ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے زیادہ تر بحری جہاز مغرب سے مشرق کی سمت سفر کر رہے ہیں اور اس نقل و حمل کے لیے ایرانی، عمانی اور بین الاقوامی بحری راستے (لینز) استعمال کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کا تمام تر عمل حال ہی میں طے پانے والی امریکہ-ایران مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے تحت وضع کردہ اصولوں کے مطابق چلایا جا رہا ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں پھیلاؤ کا خدشہ کم ہوا ہے۔