LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبر پختونخوا اسمبلی نے نئے مالی سال کا 2170 ارب کا بجٹ منظور کر لیا گورنر تبوک کا شہباز شریف سے رابطہ، پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا پاکستان اور ایران کی امنگیں اور مقاصد مشترکہ ہیں، ایرانی صدر پزشکیان غزہ استحکام فورس: مراکش کا فوجی دستہ اسرائیل پہنچ گیا پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کریں گے، بلاول بھٹو وزیراعظم کی حج 2026 کے منتظمین کی ملاقات، شہباز شریف نے مبارکباد دی عراق نے پاکستانی زائرین کے لیے نئی ویزا شرائط جاری کر دیں حکومت کا پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ پر کنٹرول مزید مضبوط، شیئر ہولڈنگ میں اضافہ فیلڈ مارشل سے لیبیا کے نائب کمانڈر انچیف کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے پر زور امیرِ قطر کا شہباز شریف سے رابطہ، پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو سراہا قائم مقام صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر کے کاغذات نامزدگی مسترد ایران کو کوئی رقم یا منجمد فنڈز جاری نہیں کیے، معلومات غلط نکلیں تو مذاکرات ختم کر دیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان میں جگر کی پیوندکاری کا عالمی ریکارڈ، 24 گھنٹے میں 10 کامیاب ٹرانسپلانٹس مکمل اسرائیل کا جنوبی لبنان سے فوجیں نہ ہٹانے کا اعلان پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شاندار تیزی، 100 انڈیکس ایک لاکھ 79 ہزار کی حد عبور کر گیا

امریکا ایران جنگ بندی معاہدے کی کاپی قومی اسمبلی میں پیش

Web Desk

24 June 2026

ایران اور امریکہ کے درمیان تاریخی جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت (MoU) کی کاپی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس اہم ترین سفارتی معاہدے کو باضابطہ طور پر قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اسلام آباد میں طے پانے والی اس مفاہمتی یادداشت پر 19 جون کو دستخط کیے گئے تھے، جسے اب قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بھی بنا دیا گیا ہے۔ اس تاریخی پیش رفت کو خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک بڑا بریک تھرو قرار دیا جا رہا ہے۔

مفاہمتی یادداشت کے متن کے مطابق، ایران اور امریکہ نے دونوں ممالک کے درمیان جاری تمام جنگی اور معاندانہ کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے پر مکمل اتفاق کیا ہے۔ معاہدے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران مستقبل میں ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی نئی جنگ، فوجی کارروائی، یا جارحانہ حکمتِ عملی سے مکمل گریز کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والے اس معاہدے کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر کشیدگی میں واضح کمی آنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔