LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ ہنر مند نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں: مریم نواز نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ امریکی سینیٹ میں جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ اہم پیشرفت قرار ایران عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں: مارکو روبیو آئی اے ای اے کے انسپکٹرز ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے، ٹرمپ امریکا سے آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے: کاظم غریب آبادی اسلام آباد اتوار بازار میں آگ بھڑک اٹھی ایرانی صدر دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد وطن روانہ

امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ

Web Desk

24 June 2026

واشنگٹن ڈی سی: ایک نئے رائٹرز اور اپسوس (Reuters/Ipsos) عوامی سروے کے مطابق، ہر چار میں سے صرف ایک امریکی شہری کا یہ خیال ہے کہ ایران کے خلاف جنگ نقصانات کے مقابلے میں فائدہ مند ثابت ہوئی ہے، جبکہ امریکی عوام کی بھاری اکثریت کو اب بھی یہ شدید خدشہ لاحق ہے کہ حالیہ جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکے گی۔ اس جنگ کے منفی اثرات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت پر براہِ راست اور گہرے پڑے ہیں۔ سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح خطرناک حد تک کم ہو کر محض 34 فیصد رہ گئی ہے، جو کہ ان کی دوسری صدارتی مدت کے دوران اپریل میں ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح کے بالکل برابر ہے۔

سروے میں امریکی عوام کی مایوسی اس وقت مزید کھل کر سامنے آئی جب شاملِ رائے صرف 23 فیصد افراد نے مانا کہ اس جنگ کے بعد ایران کے مقابلے میں امریکہ کی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے، جبکہ اس کے برعکس 35 فیصد لوگوں کے نزدیک امریکہ اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ کمزور پوزیشن میں چلا گیا ہے۔ مجموعی نتائج کے مطابق، نصف یعنی 50 فیصد جواب دہندگان نے واضح طور پر کہا کہ یہ پورا تنازع اپنے بھاری اخراجات اور ملکی نتائج کے اعتبار سے بالکل بھی فائدہ مند نہیں تھا، جبکہ باقی بچ جانے والے افراد نے اس حساس معاملے پر کوئی واضح رائے دینے سے گریز کیا یا غیر یقینی کی صورتحال کا اظہار کیا۔