امریکی سینیٹ میں جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ اہم پیشرفت قرار
Web Desk
24 June 2026
واشنگٹن ڈی سی: امریکی سینیٹ کی جانب سے جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ کے عمل کو ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی سینیٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں نے 1973ء کے ‘وار پاورز ایکٹ’ کے تحت ایک ایسی مشترکہ قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی ہے، جس میں صدر کو واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ وہ امریکی افواج کو کسی بھی ممکنہ دشمنی یا جنگی کارروائیوں سے فوری طور پر واپس بلائے۔ واشنگٹن ڈی سی میں قائم معتبر تنظیم ‘جسٹ فارن پالیسی’ نے ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے سے متعلق اس مشترکہ قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی اور سنگِ میل نما جنگ مخالف اقدام قرار دیا ہے۔
ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی میں ڈیموکریٹ رہنما گریگوری میکس نے اس پیشرفت پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قرارداد قانونی طور پر مکمل پابند ہے، اور اس پر عمل درآمد کرنا انتظامیہ کے لیے ہر حال میں ضروری ہوگا، چاہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اس بارے میں کوئی بھی موقف ہو۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید عزم ظاہر کیا کہ وہ اس بات کو سو فیصد یقینی بنانے کے لیے تمام آئینی اور قانونی راستے تلاش کریں گے کہ صدر اور ان کی انتظامیہ کانگریس کے اس تاریخی فیصلے پر من و عن عمل کرے۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ
24 June 2026
میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ
24 June 2026
ہنر مند نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں: مریم نواز
24 June 2026
نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار
24 June 2026
امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ
24 June 2026
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز
24 June 2026
محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
24 June 2026
ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش
24 June 2026