LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ، بھارت حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا: دفتر خارجہ حوثی باغیوں کا سعودیہ کے 3 شہروں پر حملہ، یمنی وزیر دفاع کو یرغمال بنا لیا اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی اور توہینِ عدالت کیس کی سماعت، پارٹی سے موقف طلب پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان برقرار امریکی اڈے پر ایرانی حملے میں 9 جنگی طیارے نشانہ بن گئے بھاری ٹیکس و مارجن وصولی: پانچ روز میں پٹرول 21.88 روپے فی لیٹر مہنگا مڈ ٹرم انتخابات میں کامیابی پر تمام امریکی شہریوں کو 5,000 ڈالر دینے کا اعلان ایران جنگ جنوری 2029ء تک جاری رہنے کا خدشہ ہے: امریکی میڈیا روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات: ڈائریکٹر سی آئی اے کا فعال کردار ادا کرنے کا امکان ایران کا امریکا سے خطے میں امن کیلئے عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرنے کا مطالبہ دبئی: ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی ٹوئنٹی سیزن 5 کی لانچ تقریب، ایونٹ کا آغاز 22 نومبر سے ہوگا یو اے ای میں عالمی کرکٹ ستاروں کی موجودگی مقامی ٹیلنٹ کیلئے اہم موقع قرار قطر کی سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثی حملوں کی شدید مذمت اردن میں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز متبادل مقامات پر منتقل یمن میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ، وزیر دفاع کے قافلے پر حملہ، حراست میں لے لیا

جنوبی کوریا: آن لائن شاپنگ کی لت میں مبتلا افراد کیلئے انوکھا اقدام

Web Desk

18 June 2026

جنوبی کوریا کے نوجوانوں میں ان دنوں ایک انتہائی انوکھا اور دلچسپ آن لائن رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جسے ’ڈوپامین سائٹس‘ (Dopamine Sites) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ویب سائٹس اور موبائل ایپلی کیشنز بظاہر عام آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز کی طرح نظر آتی ہیں، لیکن ان میں ایک بڑا تزویراتی فرق ہے: یہاں صارف جی بھر کر خریداری تو کرتا ہے، مگر اس کی جیب سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔نفسیاتی سکون اور مالی بچت پر مبنی اس جدید ترین ڈیجیٹل رجحان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:شاپنگ کا نفسیاتی فلسفہ اور ‘ڈوپامین’ کا ربطماہرینِ نفسیات کے مطابق، انسان کو آن لائن شاپنگ کا اصل لطف اکثر خریدی گئی چیز کو استعمال کرنے میں نہیں، بلکہ خریداری کے پورے عمل، اس کے جوش، تجسس اور دماغ میں پیدا ہونے والے کیمیکل ’ڈوپامین‘ (خوشی اور اطمینان کا احساس دلانے والا ہارمون) سے ملتا ہے۔اسی تصور کو سامنے رکھتے ہوئے جنوبی کوریا کے ڈویلپرز نے ایسی ایپس متعارف کرائی ہیں جو صارفین کو بغیر کسی مالی نقصان کے حقیقی خریداری جیسا 100 فیصد مکمل تجربہ فراہم کرتی ہیں۔فرضی شاپنگ ایپس کا طریقہ کاران ڈوپامین سائٹس کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ صارف کو ایک پل کے لیے بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ کسی فرضی دنیا میں ہے:حقیقی انٹرفیس: ان سائٹس پر سینکڑوں برانڈڈ مصنوعات، صارفین کے اصلی ریویوز، ریٹنگز، قیمتیں، سرچ فلٹرز اور خصوصی ڈسکاؤنٹ آفرز موجود ہوتی ہیں۔آرڈر کا مکمل عمل: صارف اپنی پسند کی چیز کو ‘ایڈ ٹو کارٹ’ کر سکتا ہے، اپنا ڈیلیوری ایڈریس درج کرتا ہے اور ’آرڈر ناؤ‘ کا بٹن بھی دباتا ہے۔لائیو ٹریکنگ: دلچسپ بات یہ ہے کہ آرڈر کنفرم ہونے کے بعد ایپ اسکرین پر ایک فرضی کورئیر بوائے کو آرڈر وصول کرتے ہوئے دکھاتی ہے، جس کی نقل و حرکت نقشے پر بالکل اصل وقت (Real-time) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم، آخر میں نہ کوئی پارسل گھر پہنچتا ہے اور نہ ہی بینک اکاؤنٹ سے پیسے کٹتے ہیں۔نوجوانوں کا موقف اور ماہرین کا تزویراتی انتباہموجودہ دور میں بڑھتی ہوئی عالمی مہنگائی، اخراجات کے دباؤ اور سوشل میڈیا پر چوبیس گھنٹے نظر آنے والے اشتہارات کے ہجوم میں جنوبی کوریا کے نوجوان اس رجحان کو پیسے بچانے کا ایک انتہائی ذہین اور تزویراتی طریقہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایپس انہیں شاپنگ کی خواہش پوری کرنے کا فوری نفسیاتی اطمینان دیتی ہیں اور وہ فضول خرچی سے بچ جاتے ہیں۔مثبت پہلو (نوجوانوں کا موقف)منفی پہلو (ماہرینِ نفسیات کا انتباہ)مہنگائی کے اس دور میں بغیر کسی مالی نقصان کے شاپنگ کی خواہش اور تجسس کا پورا ہونا۔یہ پلیٹ فارمز عارضی طور پر مالی بچت میں تو مددگار ہیں، لیکن یہ خریداری کی لت (Shopping Addiction) کو مزید پختہ کر سکتے ہیں۔کارٹ میں چیزیں ڈالنے اور ٹریکنگ دیکھنے سے ذہنی دباؤ اور انزائٹی میں فوری کمی۔فرضی خریداری کی یہ عادت صارفین کے دماغ کو شاپنگ کے اسی روایتی چکر کا عادی بنا دیتی ہے جو حقیقی زندگی میں نقصان دہ ہے۔