قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کردیا
Web Desk
12 June 2026
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا 18 ہزار 771 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے، تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف، ترقیاتی منصوبوں، دفاع، تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کے لیے بڑے مالیاتی اہداف کا اعلان کیا ہے۔
بجٹ تقریر کے آغاز میں وزیر خزانہ نے اتحادی جماعتوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بنیان مرصوص‘‘ کی کامیابی پاکستان کی تاریخ کا روشن باب ہے جبکہ گزشتہ برس بھارت کو مؤثر جواب دے کر ملک نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہوئے ہیں اور معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق بڑے صنعتی شعبے کی شرح نمو 6.1 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر تین سال قبل 4 ارب ڈالر تھے جو اب بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں۔ ترسیلات زر بھی مسلسل اضافہ دکھا رہی ہیں اور رواں مالی سال کے اختتام تک 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
بجٹ کے اہم اعلانات میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ، پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز اور کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی سفارش شامل ہے۔ اسی طرح بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے جبکہ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے ایک ہزار 71 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ ترقیاتی پروگرام کے لیے 3 ہزار 675 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی تا چمن قومی شاہراہ کو دو رویہ بنانے کے لیے 100 ارب روپے، سکھر۔حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب روپے جبکہ کراچی تا روہڑی ریلوے سیکشن کی بہتری کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ میں پانی ذخیرہ کرنے اور توانائی کے منصوبوں کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم اور داسو پن بجلی منصوبے سمیت 43 آبی منصوبوں کے لیے 103 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے جبکہ صحت کے منصوبوں کے لیے 25 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔ خواتین کی صحت سے متعلق اشیا اور مانع حمل مصنوعات پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت کے کل اخراجات 18 ہزار 771 ارب روپے رہیں گے جبکہ ایف بی آر کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
متعلقہ عنوانات
عوام حکمرانوں کی عیاشیوں کا بوجھ اٹھا رہے، ملک میں دہرا نظام نہیں چل سکتا: حافظ نعیم
25 August 2026
رسائیِ مالیات اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس: ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ای فنانسنگ کا جائزہ
25 August 2026
عمران خان کی بہن کی درخواست مسترد: سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس کی تاریخ بتا دی
25 August 2026
وزیراعظم سے سعودی کاروباری وفد کی ملاقات، سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
25 August 2026
امریکی صدر کا آبنائے ہرمز سے تمام سمندری بارودی سرنگیں ہٹانے کا دعویٰ
25 August 2026
شہباز شریف 31 اگست کو کرغزستان کے تین روزہ دورے پر روانہ ہوں گے
25 August 2026
آزاد کشمیراسمبلی: طارق فاروق سپیکر، احمد رضا قادری ڈپٹی سپیکر منتخب، حلف اٹھا لیا
25 August 2026
محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو
25 August 2026