LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
4 ارب کی عدم ریکوری، خریداریوں میں ڈھائی ارب کی بےضابطگیاں، آڈٹ رپورٹ جاری اقوام متحدہ میں پاکستان کا جنسی تشدد کے خاتمے کیلیے عالمی اقدامات کا مطالبہ سابق افغان کرکٹر شاپور زدران کا جسدِ خاکی بھارت سے کابل پہنچ گیا، ساتھی کرکٹرز اشکبار امریکا کی جانب سے پابندیوں میں چھوٹ ختم، ایران کا 6 کروڑ 30 لاکھ بیرل خام تیل سمندر میں پھنس گیا امریکا نے ایران پر حملے جوابی کارروائی میں کئے: سابق عہدیدار پینٹاگون امریکی صدر ایران کیخلاف حملوں کو محدود رکھنے کی کوشش کررہے ہیں: عالمی میڈیا امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی ایران کیساتھ دوبارہ جنگی کارروائیوں پر شدید تنقید چین کے بحرالکاہل میں بیلسٹک میزائل تجربے، امریکہ کا اظہارِ تشویش غیر ملکی فوج ایرانی ساحل پر اتری تو علاقہ ان کیلئے جہنم بنا دیں گے: ایرانی بحریہ خطےمیں کشیدگی کا ذمہ دار واشنگٹن ہے: علی اکبر ولایتی مادر ملت فاطمہ جناحؒ کی آج 59 برسی منائی جارہی ہے بحری جہازوں پر حملوں کے ردعمل میں ایران پر حملےکیے، نتائج سنگین بھی ہوسکتے ہیں۔ را ٹرمپ ریڈ کارڈ معطلی کا معاملہ، یورپی ارکانِ پارلیمنٹ کا سربراہ فیفا کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ اسرائیل کا عرب لیگ کے نئے سیکرٹری جنرل کو, رام اللہ کا دورہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملے، مزید 2 افراد جاں بحق ہوگئے

قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کردیا

Web Desk

12 June 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا 18 ہزار 771 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے، تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف، ترقیاتی منصوبوں، دفاع، تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کے لیے بڑے مالیاتی اہداف کا اعلان کیا ہے۔

بجٹ تقریر کے آغاز میں وزیر خزانہ نے اتحادی جماعتوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بنیان مرصوص‘‘ کی کامیابی پاکستان کی تاریخ کا روشن باب ہے جبکہ گزشتہ برس بھارت کو مؤثر جواب دے کر ملک نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہوئے ہیں اور معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق بڑے صنعتی شعبے کی شرح نمو 6.1 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر تین سال قبل 4 ارب ڈالر تھے جو اب بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں۔ ترسیلات زر بھی مسلسل اضافہ دکھا رہی ہیں اور رواں مالی سال کے اختتام تک 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

بجٹ کے اہم اعلانات میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ، پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز اور کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی سفارش شامل ہے۔ اسی طرح بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے جبکہ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے ایک ہزار 71 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ ترقیاتی پروگرام کے لیے 3 ہزار 675 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی تا چمن قومی شاہراہ کو دو رویہ بنانے کے لیے 100 ارب روپے، سکھر۔حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب روپے جبکہ کراچی تا روہڑی ریلوے سیکشن کی بہتری کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ میں پانی ذخیرہ کرنے اور توانائی کے منصوبوں کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم اور داسو پن بجلی منصوبے سمیت 43 آبی منصوبوں کے لیے 103 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے جبکہ صحت کے منصوبوں کے لیے 25 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔ خواتین کی صحت سے متعلق اشیا اور مانع حمل مصنوعات پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت کے کل اخراجات 18 ہزار 771 ارب روپے رہیں گے جبکہ ایف بی آر کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔