LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی این ڈی ایم اے کا دریاؤں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا الرٹ جاری امریکہ میں شدید بارشوں کی تباہ کاری، نیو جرسی میں ہول سیل اسٹور کی چھت گر گئی، نیویارک سمیت کئی علاقوں میں طوفانی سیلاب کی وارننگ نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام

سلامتی کونسل ایران کیخلاف بلا اشتعال حملے روکنے میں ناکام رہی: ایران کی شدید تنقید

Web Desk

21 May 2026

اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب اور سفیر امیر سعید ایروانی نے عالمی سلامتی کونسل (UNSC) کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی بلااشتعال عسکری جارحیت اور حملے روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس سنگین بین الاقوامی خلاف ورزی کے باوجود کونسل اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر رہی ہے، جس کی واحد وجہ ایک مستقل رکن (امریکا) کی جانب سے پیدا کردہ رکاوٹیں ہیں جو خود اس جارحیت کا حصہ اور اہم مہرہ ہے۔

امیر سعید ایروانی نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا اور اسرائیلی حکومت سمیت وہ تمام فریق، جو اس ایرانی سلامتی کے خلاف جارحیت میں معاون، مددگار یا سہولت کار بنے ہیں، انہیں اس سنگین جرم اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی پر مکمل قانونی، اخلاقی اور عالمی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ایسے سنگین جرائم پر عالمی طاقتوں کو سزا سے استثنیٰ دینا نہ صرف متاثرین کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے، بلکہ یہ عمل مجموعی طور پر عالمی امن، سفارت کاری اور سیکیورٹی کے لیے ایک مستقل اور بڑا خطرہ بن رہا ہے۔

ایرانی سفیر نے سلامتی کونسل کے ارکان پر زور دیا کہ وہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر دی جانے والی بے بنیاد، غیر منصفانہ اور بار بار کی دھمکیوں پر مجرمانہ خاموشی اختیار نہ کریں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا خاص طور پر حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ جارحانہ بیان اور دھمکیاں بین الاقوامی تعلقات اور سفارتی آداب میں ایک انتہائی خطرناک مثال قائم کر رہی ہیں، جس کا بروقت نوٹس لینا عالمی ادارے کی اولین ذمہ داری ہے۔