LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
رواں سال سمگلنگ میں 80 فیصد کمی ہوئی: وزیر مملکت طلال چودھری بجٹ 27-2026 کی تیاریاں: آئی ایم ایف اور ایف بی آر مذاکرات مکمل، 15,262 ارب روپے کا ریکارڈ ٹیکس ہدف مقرر پنجاب اور آذربائیجان کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران مثبت رجحان امریکہ ایران کیخلاف جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہا ہے، ایرانی مشن امریکی صدر ٹرمپ کا ایران جنگ تیزی سے ختم کرنے کا اعلان ایران کی امریکا کو دوبارہ جارحیت پر سخت کارروائی کی وارننگ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے، 9 افراد جاں بحق، متعدد زخمی نیویارک میں 56 سالہ خاتون گاڑی سے اترتے ہی کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق مملکت کی سیکیورٹی اور تحفظ کے لیے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کریں گے:سعودی کابینہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی دھرنا ختم، پولیس سے مذاکرات کامیاب، ٹریفک بحال 2مرتبہ مذاکرات کی کوشش کی مگر بند کمروں میں فیصلہ کرنے والے نہیں مانتے :سہیل آفریدی  مریم نواز نے ورلڈ اربن فورم میں پنجاب پویلین کا افتتاح کردیا ثناء یوسف قتل کیس: عدالت نے عمر حیات کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنا دی امریکا نے حملہ کیا تو خون کی ندیاں بہیں گی، کیوبا کی دھماکا خیز وارننگ

ثنا یوسف قتل کیس میں عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا

Web Desk

20 May 2026

اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے دارالحکومت کے لرزہ خیز ‘ثنا یوسف قتل کیس’ کا تفصیلی اور تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ کی جانب سے جاری کردہ یہ تفصیلی فیصلہ 27 صفحات پر مشتمل ہے۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ استغاثہ (Prosecution) نے ملزم کے خلاف دو انتہائی ٹھوس چشم دید گواہوں کی شکل میں بھرپور اور ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے ہیں۔ اس کے علاوہ فرانزک شواہد کے مطابق ملزم کے فنگر پرنٹس (انگلیوں کے نشانات) بھی مقتولہ کے گھر سے میچ ہوئے، جو جائے وقوعہ پر اس کی موجودگی کا واضح ثبوت ہیں۔عدالتی فیصلے کے مطابق، تفتیش کے دوران ملزم سے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی اور آلہ قتل (پستول) بھی برآمد کر لی گئی تھی۔ جج افضل مجوکہ نے فیصلے میں تحریر کیا کہ ملزم نے صرف ملاقات نہ کرنے کی پاداش میں ایک 17 سالہ معصوم لڑکی کو بیدردی سے قتل کیا، اور ریکارڈ کے مطابق ملاقات سے انکار کے علاوہ اس لرزہ خیز قتل کا کوئی اور محرک یا وجہ نہیں تھی۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ ملزم عمر حیات نے جس بے رحمی سے ایک معصوم جان لی، وہ کسی بھی قسم کی نرمی یا رعایت کا مستحق نہیں ہے۔ لہٰذا، عدالت ملزم عمر حیات کو درج ذیل سزائیں سناتی ہے