LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کی اردن میں فوجی اڈے پر کارروائی کے جواب میں ایران پر شدید حملوں کی دھمکی امریکا کو خطے میں محاصرے میں لیا جانا چاہئے: نائب سپیکر ایرانی پارلیمنٹ خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی پالیسی ناکام ہو چکی: انور قرقاش امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ مسترد کردیا اسرائیل اور یونان کے درمیان 3.5 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ طے سندھ طاس معاہدہ, پاکستان کا عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم عظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی آج پانچویں برسی منائی جارہی ہے نیدرلینڈز میں سالانہ ریڈ ہیڈ فیسٹیول، دنیا بھر سے سرخ بالوں والے افراد کی شرکت پٹرول مزید مہنگا، ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 3 پیسے کمی کردی گئی اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب یاشار گولر سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال وزیراعظم کی چھٹے ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت، پرتپاک استقبال روس چین ویزا فری نظام مستقل کرنے پر تیار، صدر پوتن کا اعلان روس اور بیلاروس کے صدور کی ملاقات، تجارت اور عالمی امور پر گفتگو بات پکی ہوئی نہ منگنی، بلاول بھٹو بھی جعلی خبروں پر بول پڑے ایل پی جی کی قیمت میں 4 روپے 33 پیسے فی کلو اضافہ

کم جونگ اُن کو قتل کیا گیا تو فوری جوہری حملہ ہوگا،  شمالی کوریا کا نیا آئین

Web Desk

8 May 2026

شمالی کوریا نے اپنے جوہری قوانین میں ایک نہایت غیر معمولی اور خطرناک تبدیلی کرتے ہوئے یہ شق شامل کر دی ہے کہ اگر ملک کے سربراہ کم جونگ اُن قتل کر دیے گئے یا کسی حملے کے باعث حکمرانی کے قابل نہ رہے تو ملک فوری طور پر خودکار جوہری حملہ کرے گا۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اس فیصلے کے بعد دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئین میں یہ ترمیم 22 مارچ کو منظور کی گئی تھی تاہم اسے پہلی بار اب منظرِ عام پر لایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئی شق جوہری پالیسی قانون کے آرٹیکل 3 میں شامل کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر دشمن قوتوں کے حملے کے نتیجے میں ریاستی جوہری کمان اور کنٹرول نظام خطرے میں پڑتا ہے تو فوری اور خودکار جوہری حملہ کیا جائے گا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کو خدشہ ہے کہ ایران میں امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی طرح ان کی اعلیٰ قیادت کو بھی مستقبل میں خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

شمالی کوریا میں خفیہ معلومات حاصل کرنا اور اعلیٰ قیادت تک رسائی حاصل کرنا انتہائی دشوار سمجھا جاتا ہے کیونکہ ملک کی سرحدیں تقریباً مکمل طور پر بند ہیں اور غیر ملکی افراد کی سخت نگرانی کی جاتی ہے۔

دوسری جانب شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب نئے طرز کے 155 ملی میٹر خودکار توپ خانے کی تعیناتی کا بھی اعلان کیا ہے، جس کی مار 60 کلومیٹر سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق کم جونگ اُن نے نئے ہتھیار کی تیاری کا معائنہ کیا اور کہا کہ اس سے شمالی کوریا کی زمینی جنگی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔