LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئے بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو ایران نے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، لبنان جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے: اسماعیل بقائی سفیر پاکستان کی چیچن رہنما سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق مانیٹری پالیسی کا اعلان: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کسی کو فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،مولانا فضل الرحمان صدر پوتن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 80ویں سالگرہ پر فون کر کے مبارکباد

میٹا کا مصنوعی ذہانت کی تربیت کیلئے نیا اور غیر معمولی قدم اٹھانے کا فیصلہ

Web Desk

23 April 2026

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے مصنوعی ذہانت (AI) کو انسانی انداز میں کمپیوٹر استعمال کرنا سکھانے کے لیے ایک منفرد اور غیر معمولی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی امریکہ میں اپنے ملازمین کے کمپیوٹرز میں ایک نیا ٹریکنگ سافٹ ویئر انسٹال کر رہی ہے جو ماؤس کی حرکت، کلکس اور کی بورڈ کے استعمال کو ریکارڈ کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد ایسے اے آئی ایجنٹس تیار کرنا ہے جو مستقبل میں خودکار طریقے سے دفتری کام انجام دے سکیں۔

میٹا کی دستاویزات کے مطابق یہ ٹول مخصوص ایپس اور ویب سائٹس پر فعال ہوگا اور بعض اوقات اسکرین شاٹس بھی لیے جائیں گے تاکہ اے آئی ماڈلز کام کے سیاق و سباق کو سمجھ سکیں۔ یہ ڈیٹا میٹا کی “سپر انٹیلی جنس لیبز” استعمال کرے گی تاکہ اے آئی کی ان خامیوں کو دور کیا جا سکے جہاں وہ ابھی تک مکمل کارکردگی نہیں دکھا پا رہے، جیسے کہ ڈراپ ڈاؤن مینیو کا استعمال یا کی بورڈ شارٹ کٹس کا درست انتخاب۔

کمپنی کے ترجمان اینڈی اسٹون نے وضاحت کی ہے کہ جمع شدہ ڈیٹا صرف اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہوگا اور اسے ملازمین کی کارکردگی جانچنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ایسے اے آئی ایجنٹس بنانا چاہتے ہیں جو انسانوں کی طرح کمپیوٹر چلا سکیں، تو ہمیں یہ سمجھنے کے لیے حقیقی مثالوں کی ضرورت ہے کہ لوگ عملی طور پر ماؤس کیسے چلاتے ہیں اور بٹن کیسے کلک کرتے ہیں۔ کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حساس معلومات کے تحفظ کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔