LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت خطے میں امن کوششوں کو سبوتاثرکرنے سے بازرہے، پاکستان ایران نے آبنائے ہرمزمیں مزید2جہازوں کو تحویل میں لے لیا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر کشتی کو نشانہ بنایا جائے،ٹرمپ کا امریکی بحریہ کو حکم آبنائے ہرمز میں جہازوں پر عائد فیس سے حاصل پہلی آمدنی سینٹرل بینک میں جمع کرادی گئی،ایران امریکانے بحر ہند میں ایرانی تیل لے جانے والے ایک اور ٹینکر پر قبضہ کرلیا ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع پر وقت کی کوئی قید نہیں، ٹرمپ وزیراعظم شہبازشریف سے چینی سفیر کی ملاقات،پاکستان کی امن کوششوں پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم سے پاکستانی خلا بازوں کی ملاقات، خلائی مشن کو تاریخی سنگ میل قرار قرضے حکمران لیں اور واپس عوام کریں یہ ظلم ہے: حافظ نعیم الرحمان پاکستان نے 2023 کے بعد پہلی بار ایل این جی کارگو کیلئے تین ٹینڈر جاری کر دیے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انرجی سیکیورٹی کے حوالے سے اہم اجلاس توانائی بحران اور علاقائی کشیدگی کے باعث کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی: گیلپ پاکستان سروے محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات، مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ پر تبادلہ خیال آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کی وجہ امریکی و اسرائیلی جارحیت ہے: عراقچی وزیراعلیٰ پنجاب نے ”اپنا کھیت، اپنا روزگار سکیم“ پورٹل کا افتتاح کر دیا

میٹا کا مصنوعی ذہانت کی تربیت کیلئے نیا اور غیر معمولی قدم اٹھانے کا فیصلہ

Web Desk

23 April 2026

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے مصنوعی ذہانت (AI) کو انسانی انداز میں کمپیوٹر استعمال کرنا سکھانے کے لیے ایک منفرد اور غیر معمولی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی امریکہ میں اپنے ملازمین کے کمپیوٹرز میں ایک نیا ٹریکنگ سافٹ ویئر انسٹال کر رہی ہے جو ماؤس کی حرکت، کلکس اور کی بورڈ کے استعمال کو ریکارڈ کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد ایسے اے آئی ایجنٹس تیار کرنا ہے جو مستقبل میں خودکار طریقے سے دفتری کام انجام دے سکیں۔

میٹا کی دستاویزات کے مطابق یہ ٹول مخصوص ایپس اور ویب سائٹس پر فعال ہوگا اور بعض اوقات اسکرین شاٹس بھی لیے جائیں گے تاکہ اے آئی ماڈلز کام کے سیاق و سباق کو سمجھ سکیں۔ یہ ڈیٹا میٹا کی “سپر انٹیلی جنس لیبز” استعمال کرے گی تاکہ اے آئی کی ان خامیوں کو دور کیا جا سکے جہاں وہ ابھی تک مکمل کارکردگی نہیں دکھا پا رہے، جیسے کہ ڈراپ ڈاؤن مینیو کا استعمال یا کی بورڈ شارٹ کٹس کا درست انتخاب۔

کمپنی کے ترجمان اینڈی اسٹون نے وضاحت کی ہے کہ جمع شدہ ڈیٹا صرف اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہوگا اور اسے ملازمین کی کارکردگی جانچنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ایسے اے آئی ایجنٹس بنانا چاہتے ہیں جو انسانوں کی طرح کمپیوٹر چلا سکیں، تو ہمیں یہ سمجھنے کے لیے حقیقی مثالوں کی ضرورت ہے کہ لوگ عملی طور پر ماؤس کیسے چلاتے ہیں اور بٹن کیسے کلک کرتے ہیں۔ کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حساس معلومات کے تحفظ کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔