LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال آئینِ پاکستان کو نہ ماننے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی: فیصل کریم پولیس پر تشدد کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر فرد جرم کی تاریخ مقرر ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت 4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری نیتن یاہو نے اماراتی صدر کی دعوت پر ابوظہبی کا دورہ کیا: اسرائیلی وزیراعظم دفتر حافظ نعیم سے منسوب لغو بات پھیلائی جا رہی ہے: لیاقت بلوچ قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکا کو آگاہ کر دیا، اب جواب کا انتظار ہے: عراقچی پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل

اپوزیشن لیڈر کیلئے محمود خان اچکزئی کی نامزدگی پر حکومت کا اعتراض

Web Desk

20 November 2025

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری ایک مرتبہ پھر سیاسی موضوع بن گئی ہے، جہاں حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے چیف وہپ عامر ڈوگر کو باضابطہ خط ارسال کردیا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے اچکزئی کے نام پر حتمی اتفاق کر لیا ہے اور پارٹی قیادت اس فیصلے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے ساتھ مشاورت کے بعد خط کا جواب دیا جائے گا، تاہم اپوزیشن لیڈر کے لیے نام کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ گزشتہ دو ماہ سے اپوزیشن لیڈر کی نشست خالی ہے، اسی دوران آئین میں 27ویں ترمیم بھی منظور ہو چکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی آئین کے مطابق قومی اسمبلی کے رکن ہیں، لہٰذا حکومت کا اعتراض بے بنیاد ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ مکمل آئینی اختیار ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے لیے اپنی نامزدگی دے، اور حکومت کو اس عمل میں بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

عامر ڈوگر کے مطابق نام پارٹی کے بانی سے مشاورت کے بعد دیا گیا ہے، اس لیے دوبارہ مشاورت کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے خط کا جواب جلد جمع کرا دیا جائے گا، جس کے بعد اپوزیشن لیڈر کے انتخاب سے متعلق کارروائی آگے بڑھے گی۔