LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مذاکرات میں حتمی معاہدہ نہیں ہواتوجنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی، امریکی صدر ایران کے 6ایئرپورٹس کھل گئے، فضائی حدود50روزبعد جزوی بحال ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں کراچی سے پہلی حج پرواز 160 عازمین کے ساتھ حجازِ مقدس روانہ ایران، امریکا اختلافات برقرار، جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی ڈیل کی امید

فیفا ورلڈکپ، فیفا کا ایران کے میچز امریکہ سے منتقل نہ کرنے اعلان

Web Desk

18 March 2026

فیفا نے ایران کے ورلڈ کپ میچز امریکا سے میکسیکو منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

فیفا ترجمان کے مطابق فیفا ورلڈ کپ 2026 کے تمام میچز طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہوں گے اور کسی قسم کی تبدیلی زیر غور نہیں۔ترجمان نے بتایا کہ 6 دسمبر 2025 کو جاری کیے گئے شیڈول کے مطابق ہی ٹیموں کے درمیان مقابلے کروانے کی تیاری جاری ہے اور ایونٹ میں شامل تمام ٹیموں سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔فیفا کے اس فیصلے کے بعد ایران کے وزیر کھیل نے ممکنہ بائیکاٹ کا عندیہ دیا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔اس سے قبل ایران فٹ بال فیڈریشن نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے میچز امریکا کے بجائے میکسیکو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔فیڈریشن کے صدر مہدی تاج کا کہنا تھا کہ حالات کے تناظر میں ٹیم کے امریکا جانے پر تحفظات ہیں، لہٰذا میچز کو میکسیکو منتقل کیا جائے۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ بیان میں ایران ٹیم کے امریکا آنے پر سکیورٹی خدشات کا ذکر کیا تھا۔فیفا کے فیصلے کے بعد اب ایران کے ممکنہ ردعمل اور ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے صورتحال پر عالمی نظریں مرکوز ہیں۔