LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعلیٰ پنجاب کا کچہ ایریا کے لیے 23 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان امریکا اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار، امن کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں: دفتر خارجہ الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی؛ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جماعت سمیت 2 سیاسی پارٹیاں ڈی لسٹ پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز بیڑے میں شامل؛ صدرِ مملکت کی چین میں کمیشننگ تقریب میں شرکت وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کا اجرا کر دیا، اہل افراد میں چیک تقسیم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ فیصلہ معطل کردیا آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا سفیرِ پاکستان کی چیئرمین امریکی خارجہ امور کمیٹی سے ملاقات؛ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف صومالیہ کی یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کی یقین دہانی امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس ایک لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کے عملے کے 6 ارکان رہا صدر پیوٹن کی 9 مئی کو یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش امریکی بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ کی مرمت کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے واپسی

امریکی فوج کے ایران پر شدید حملے، خارک جزیرہ اور فوجی اہداف تباہ کردیا: صدر ٹرمپ

Web Desk

14 March 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خارک جزیرے اور دیگر فوجی اہداف پر انتہائی شدید حملے کیے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ان کی ہدایت پر امریکی مرکزی کمان نے ایران کے اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا اور اس کارروائی میں تمام اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بعض وجوہات کے باعث خارک جزیرے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا گیا تاہم اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں مداخلت کی گئی تو اس فیصلے پر فوری نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے اپنے دورِ صدارت میں امریکی فوج کو دنیا کی سب سے طاقتور قوت بنا دیا ہے اور ایران کے پاس ایسی کوئی صلاحیت موجود نہیں جو امریکی حملوں کا مؤثر دفاع کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایران کو امریکا، مشرقِ وسطیٰ یا عالمی امن کے لیے خطرہ نہیں بننے دیا جائے گا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے خطے پر غلبے اور اسرائیل کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے منصوبے اب ختم ہو چکے ہیں۔

انہوں نے ایران کی فوج اور حکومت سے وابستہ افراد کو خبردار کیا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور مزید تباہی سے اپنے ملک کو بچائیں۔

یاد رہے کہ خارک جزیرہ ایران کے ساحل سے تقریباً پچیس کلو میٹر دور واقع ہے اور ایران کی زیادہ تر تیل برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتی ہیں۔