LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں کراچی سے پہلی حج پرواز 160 عازمین کے ساتھ حجازِ مقدس روانہ ایران، امریکا اختلافات برقرار، جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی ڈیل کی امید آبنائے ہرمز کی بحالی : پاسدارانِ انقلاب کی جہازوں کے لیے نئی شرائط پاکستان اور ارجنٹائن فٹبال ٹیموں کے درمیان فرینڈلی میچ کی تیاریاں وزیراعظم نے ڈیزل کی قیمت میں 32روپے12پیسے فی لٹرکمی کی منظوری دے دی ایران کا آبنائے ہرمزمکمل طورپر کھولنے کا اعلان ، وزیر خارجہ عراقچی کابڑا اعلان

امریکی صدر کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی : پاکستانی شہری مجرم قرار

Web Desk

8 March 2026

واشنگٹن: امریکی عدالت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اہم سیاسی شخصیات کو قتل کرنے کی مبینہ سازش میں ملوث پاکستانی شہری کو مجرم قرار دے دیا۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق پاکستانی شہری آصف مرچنٹ پر الزام تھا کہ اس نے ایران کی ہدایت پر امریکا میں افراد کو بھرتی کرنے کی کوشش کی تاکہ امریکی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

استغاثہ کے مطابق یہ منصوبہ 2024 میں سامنے آیا تھا جس میں اس وقت کے امریکی صدر جوبائیڈن اور صدارتی امیدوار نکی ہیلی کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق یہ سازش 2020 میں ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد انتقامی کارروائی کے طور پر تیار کی گئی تھی۔

امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ ملزم پر کرائے کے قاتل کے ذریعے قتل کی منصوبہ بندی اور بین الاقوامی دہشت گردی کی کوشش جیسے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔ مقدمے کی سماعت نیویارک کے علاقے بروکلین کی عدالت میں گزشتہ ہفتے شروع ہوئی تھی۔

ملزم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس نے ایران کی طاقتور فوجی تنظیم Islamic Revolutionary Guard Corps کے دباؤ کے تحت منصوبے میں شمولیت اختیار کی تاکہ تہران میں موجود اپنے اہل خانہ کو محفوظ رکھ سکے۔

حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ ملزم نے اپریل 2024 میں جس شخص سے رابطہ کیا تھا اس نے حکام کو اطلاع دی اور مخبر کے طور پر کام کیا جس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

ایران کی حکومت اس سے قبل امریکی حکام کے ان الزامات کی تردید کر چکی ہے کہ اس نے امریکی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔