ایران پر حملہ امریکی مفاد میں تھا یا نہیں؟ امریکا میں نئی سیاسی بحث چھڑ گئی
Web Desk
5 March 2026
ایران پر حالیہ حملے کے بعد امریکا میں ایک نئی سیاسی بحث نے جنم لے لیا ہے جس میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ کارروائی واقعی امریکی قومی مفاد میں تھی یا اس کے پس منظر میں دیگر عوامل کارفرما تھے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بعض سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے ایران پر ممکنہ یکطرفہ حملے کو روکنے کے لیے کیا گیا ہو۔
امریکی سینیٹر الزبیتھ وارن نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیل گزشتہ چار دہائیوں سے امریکا کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جنہیں اسرائیل اس معاملے میں قائل کرنے میں کامیاب رہا۔
سینیٹر الزبیتھ وارن نے مزید کہا کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ عوام کی توجہ ایپسٹین فائلوں سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
امریکا میں ایران سے متعلق اس پیش رفت کے بعد سیاسی حلقوں میں اس اقدام کے اثرات اور اس کے حقیقی مقاصد پر بحث تیز ہوگئی ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کا آغاز
21 June 2026
پاکستان پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی کے درمیان حکومت سازی کے معاملات طے پا گئے۔
21 June 2026
وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ایرانی وفد سے اہم ملاقات، باضابطہ مذاکرات سے قبل مشاورت
21 June 2026
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ہمارے حق میں ہیں: ایرانی صدر
21 June 2026
ایران امریکہ مذاکرات آج: وزیراعظم، فیلڈ مارشل کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات
21 June 2026
قومی اسمبلی: 29 وزارتوں اور ڈویژنوں کے 40 کھرب 48 ارب کے 89 مطالبات زر منظور
21 June 2026
پاکستان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر عملدرآمد کیلئے کردار ادا کرے گا: دفتر خارجہ
21 June 2026
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے
21 June 2026