LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

امریکاکا ایران پر بڑے حملے سے قبل محدودکارروائی پر غور، نیویارک ٹائمز

Web Desk

23 February 2026

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق  صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف محدود ابتدائی حملے پر غور کر رہے ہیں۔اس کے باوجود ایران ایٹمی پروگرام سے دستبردار نہ ہوا تو جلد  بڑا حملہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

امریکی اخبار نے ذرائع  کے حوالے سے دعویٰ کیاہے کہ اگر سفارتی کوششیں یا  محدود امریکی کارروائی ایران کو ان کے مطالبات ماننے پر آمادہ نہ کر سکی تو امریکی صدر ایک وسیع تر فوجی آپریشن پر غور کریں گے جس کا مقصد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اقتدار کو کمزور یا ختم کرنا ہو سکتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کاکہناہےکہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جمعرات کو جنیوا میں ملاقات کرنے والے ہیں جسے ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کی آخری کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے  عسکری آپشنز بھی زیرِ غور رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی اخبار کے مطابق اگرچہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا لیکن ٹرمپ کے مشیروں کے مطابق صدر ابتدائی طور پر آئندہ چند دنوں میں ایک محدود حملے کی جانب مائل دکھائی دیتے ہیں جس کا مقصد ایرانی قیادت کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت ترک کرنے پر آمادگی ظاہر کرے۔اخبار کے مطابق اس حوالے سے زیر غور اہداف میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب  کا ہیڈکوارٹر، جوہری تنصیبات اور بیلسٹک میزائل پروگرام شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اگر یہ اقدامات بھی ایران کو امریکی مطالبات ماننے پر آمادہ نہ کر سکے تو صدر ٹرمپ رواں سال کے اواخر میں ایک بڑے فوجی حملے کا امکان کھلا رکھیں گے۔اخبار کے مطابق پسِ پردہ دونوں فریق ایک متبادل تجویز پر بھی غور کر رہے ہیں جس کے تحت ایران کو محدود سطح پر صرف طبی تحقیق اور علاج کے مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کی اجازت دی جا سکتی ہے۔