LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا سے مذاکرات میں اب بھی بڑا فاصلہ موجود ہے، ایرانی اسپیکر واشنگٹن:ایران صورتحال پر اہم اجلاس، صدر ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فون پر گفتگو خلیج میں لنگرانداز جہاز  حرکت نہ کریں ، پاسداران انقلاب کی سخت وارننگ ڈیزل سے بھرا پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز سے داخل ہوکر واپس لوٹ گیا ضلعی انتظامیہ نے اسلام آباد میں دکانیں اور بس اڈے بند ہونے کی خبروں کی تردید کردی فیلڈمارشل عاصم منیرکی تہران آمدپرپیش کردہ امریکی تجاویزکاجائزہ لے رہےہیں، ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل امریکا سے مذاکرات کےدوسرے مرحلے کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، ایرانی نائب وزیرخارجہ اچھے مذاکرات چل رہے ہیں، ایران آبنائے ہرمز کےذریعے بلیک ملیک نہیں کرسکتا، ٹرمپ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کردی ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق

امریکاکا ایران پر بڑے حملے سے قبل محدودکارروائی پر غور، نیویارک ٹائمز

Web Desk

23 February 2026

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق  صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف محدود ابتدائی حملے پر غور کر رہے ہیں۔اس کے باوجود ایران ایٹمی پروگرام سے دستبردار نہ ہوا تو جلد  بڑا حملہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

امریکی اخبار نے ذرائع  کے حوالے سے دعویٰ کیاہے کہ اگر سفارتی کوششیں یا  محدود امریکی کارروائی ایران کو ان کے مطالبات ماننے پر آمادہ نہ کر سکی تو امریکی صدر ایک وسیع تر فوجی آپریشن پر غور کریں گے جس کا مقصد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اقتدار کو کمزور یا ختم کرنا ہو سکتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کاکہناہےکہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جمعرات کو جنیوا میں ملاقات کرنے والے ہیں جسے ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کی آخری کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے  عسکری آپشنز بھی زیرِ غور رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی اخبار کے مطابق اگرچہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا لیکن ٹرمپ کے مشیروں کے مطابق صدر ابتدائی طور پر آئندہ چند دنوں میں ایک محدود حملے کی جانب مائل دکھائی دیتے ہیں جس کا مقصد ایرانی قیادت کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت ترک کرنے پر آمادگی ظاہر کرے۔اخبار کے مطابق اس حوالے سے زیر غور اہداف میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب  کا ہیڈکوارٹر، جوہری تنصیبات اور بیلسٹک میزائل پروگرام شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اگر یہ اقدامات بھی ایران کو امریکی مطالبات ماننے پر آمادہ نہ کر سکے تو صدر ٹرمپ رواں سال کے اواخر میں ایک بڑے فوجی حملے کا امکان کھلا رکھیں گے۔اخبار کے مطابق پسِ پردہ دونوں فریق ایک متبادل تجویز پر بھی غور کر رہے ہیں جس کے تحت ایران کو محدود سطح پر صرف طبی تحقیق اور علاج کے مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کی اجازت دی جا سکتی ہے۔