LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سانحہ گل پلازہ: تفتیشی افسر کو تحقیقات مکمل کرنے کیلئے 9 اگست تک مہلت مل گئی ٹرمپ کا امیرِ قطر سے ٹیلیفونک رابطہ، خلیج میں استحکام کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر زور ’’یوم استحصال کشمیر‘‘جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے: شرجیل میمن بلاول بھٹو دل بڑا کریں، لیڈر شکست پر روتے اچھے نہیں لگتے: طلال چودھری ’’یوم استحصال‘‘: پاک فوج کا کشمیری عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کے عزم کا اعادہ ایران کیساتھ جنگ، امریکا کو طویل فاصلے تک مار کرنیوالے میزائلوں کی کمی کا سامنا مودی سرکار کے اقدامات نے بھارتی ریاستی جبر میں اضافہ کیا: وزیراعظم پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ’’یومِ استحصالِ کشمیر‘‘ منایا جارہا ہے ن لیگ نئے صوبوں پر جلد فیصلہ کر کے اپنا مؤقف سامنے لائے گی: رانا ثنا اللہ حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان اسحاق ڈار القدس سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن روانہ آبنائے ہرمز معاہدے کی راہ ہموار، ایران کی عمان سے مثبت مذاکرات کی تصدیق وزیراعظم شہباز شریف 6 اور 7 اگست کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے پی ٹی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 7 ماہ میں 18 لاکھ سے زائد سمز بلاک روس میں کرپٹو کرنسی کے لیے جامع قانون منظور، صدر پوتن نے دستخط کر دیے

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کراچی میں ایڈز پھیلنے کے واقعے پر سخت ایکشن

Web Desk

20 February 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی کے ایک نجی اسپتال میں مبینہ طور پر غلط سرنجوں کے استعمال سے ایڈز (ایچ آئی وی) کے 84 کیسز رپورٹ ہونے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

وزیر صحت نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی جی ہیلتھ کو کراچی روانہ کر دیا گیا ہے اور تمام متاثرہ مریضوں کو تلاش کر کے ان کا علاج اور مفت ادویات کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طبی شعبے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور غلط کام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، تاہم جائز مسائل پر سب کی بات سنی جائے گی۔ نرسنگ کونسل سمیت دیگر انتظامی معاملات کو بھی طے شدہ طریقہ کار کے تحت حل کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں مصطفیٰ کمال نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق گفتگو کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور اس حوالے سے معلومات کی فراہمی کی ذمہ داری وزیر اطلاعات کی ہے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ حساس نوعیت کے معاملات پر متضاد اطلاعات سے بچنے کے لیے خبر صرف ایک ہی مستند ذریعے سے آنی چاہیے