LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ماسکو کی جانب آنے والے 338 ڈرونز تباہ، آئل ریفائنری کی تنصیب کو نقصان باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت؛ فوری رہائی کا مطالبہ حکومت کا آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت صاف ستھرا پنجاب صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے، مریم نواز جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈار نیویارک روانہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ شروع، ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شریک کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمہ دوبارہ نصب آج کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاریخی مارچ کا آغاز ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حوثی ملیشیا کا ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا 4 فلسطین نواز کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ، تیونس میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کراچی میں ایڈز پھیلنے کے واقعے پر سخت ایکشن

Web Desk

20 February 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی کے ایک نجی اسپتال میں مبینہ طور پر غلط سرنجوں کے استعمال سے ایڈز (ایچ آئی وی) کے 84 کیسز رپورٹ ہونے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

وزیر صحت نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی جی ہیلتھ کو کراچی روانہ کر دیا گیا ہے اور تمام متاثرہ مریضوں کو تلاش کر کے ان کا علاج اور مفت ادویات کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طبی شعبے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور غلط کام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، تاہم جائز مسائل پر سب کی بات سنی جائے گی۔ نرسنگ کونسل سمیت دیگر انتظامی معاملات کو بھی طے شدہ طریقہ کار کے تحت حل کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں مصطفیٰ کمال نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق گفتگو کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور اس حوالے سے معلومات کی فراہمی کی ذمہ داری وزیر اطلاعات کی ہے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ حساس نوعیت کے معاملات پر متضاد اطلاعات سے بچنے کے لیے خبر صرف ایک ہی مستند ذریعے سے آنی چاہیے