LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر میڈیا رپورٹنگ کو غلط قرار دے دیا ازبکستان کی سینٹرم ایئر کا پاکستان کیلئے فضائی آپریشن شروع، پہلی پرواز کراچی پہنچ گئی اسحاق ڈار کا نومنتخب او آئی سی سیکریٹری جنرل سے رابطہ، عہدے سنبھالنے پر مبارکباد سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کی جاسکتی: مراد شاہ نے قومی اسمبلی کو خبردار کردیا شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے ہلاکتوں پر اظہار تعزیت مہمند ڈیم پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے اہم قومی منصوبہ ہے: چیئرمین واپڈا یومِ دفاع پر سائبر حملوں کا خدشہ، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی اہم ہدایات ٹرمپ اور اماراتی صدر کا ٹیلی فونک رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو امریکی حملوں میں شہید شہریوں کے خون کا حساب لیا جائے گا: پاسداران انقلاب نیتن یاہو کا ایرانی حکومت گرانے کیلئے کام جاری رکھنے کا اعلان پاکستان کی روسی مشرق بعید کے ساتھ تخلیقی معیشت میں تعاون بڑھانے کی تجویز مکہ معاہدہ پاکستان کی سفارتی تاریخ میں اہم سنگ میل ہے: ملک احمد خان سرکاری ہسپتالوں کی سہولیات پر اپوزیشن کی تحریک التوائے کار کثرت رائے سے مسترد

امریکا کو تعطل ختم کرنے کیلئے ایران کی طرف سے تحریری تجاویز کی توقع

Web Desk

19 February 2026

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے تہران کی جانب سے تحریری تجاویز موصول ہونے کی توقع ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سلامتی مشیروں کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایران کی صورتحال اور علاقائی سلامتی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 28 فروری کے ویک اینڈ پر اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران وہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے، جس میں بنیادی طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ سے متعلق امور پر بات چیت کی جائے گی۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی نئی تعیناتیوں کا عمل جاری ہے اور توقع ہے کہ مارچ کے وسط تک تمام فورسز اپنی مخصوص جگہوں پر پہنچ جائیں گی۔ ماہرین اس پیشرفت کو ایران پر دباؤ برقرار رکھنے اور ساتھ ہی سفارتی راستہ کھلا رکھنے کی امریکی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔