LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خلیج میں لنگرانداز جہاز  حرکت نہ کریں ، پاسداران انقلاب کی سخت وارننگ ڈیزل سے بھرا پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز سے داخل ہوکر واپس لوٹ گیا ضلعی انتظامیہ نے اسلام آباد میں دکانیں اور بس اڈے بند ہونے کی خبروں کی تردید کردی فیلڈمارشل عاصم منیرکی تہران آمدپرپیش کردہ امریکی تجاویزکاجائزہ لے رہےہیں، ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل امریکا سے مذاکرات کےدوسرے مرحلے کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، ایرانی نائب وزیرخارجہ اچھے مذاکرات چل رہے ہیں، ایران آبنائے ہرمز کےذریعے بلیک ملیک نہیں کرسکتا، ٹرمپ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کردی ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات

امریکا کو تعطل ختم کرنے کیلئے ایران کی طرف سے تحریری تجاویز کی توقع

Web Desk

19 February 2026

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے تہران کی جانب سے تحریری تجاویز موصول ہونے کی توقع ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سلامتی مشیروں کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایران کی صورتحال اور علاقائی سلامتی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 28 فروری کے ویک اینڈ پر اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران وہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے، جس میں بنیادی طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ سے متعلق امور پر بات چیت کی جائے گی۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی نئی تعیناتیوں کا عمل جاری ہے اور توقع ہے کہ مارچ کے وسط تک تمام فورسز اپنی مخصوص جگہوں پر پہنچ جائیں گی۔ ماہرین اس پیشرفت کو ایران پر دباؤ برقرار رکھنے اور ساتھ ہی سفارتی راستہ کھلا رکھنے کی امریکی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔