LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امن جرگہ مشترکہ اعلامیے پر عملدرآمد کیا جائے، سپیکر کے پی اسمبلی کا وزیراعظم کو خط بانی پی ٹی آئی کے علاج پر لچک نہ دکھانا سمجھ سے بالاتر ہے: سلمان اکرم راجہ مکہ دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب کو متفقہ فوجی دستے اور صلاحیتیں فراہم کرنے کا فیصلہ گیسولین قیمتوں میں اضافے کی وجہ آبنائے ہرمز نہیں، روس یوکرین جنگ ہے: ٹرمپ آئی سی سی نے 4 سینئر طالبان رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری ‘پبلک’ کر دیئے ماسکو فارمیٹ کا آٹھواں اجلاس، افغانستان کی صورتحال اور علاقائی سلامتی پر غور دشمن کی نئی غلطی کا منہ توڑ جواب دیں گے، ایرانی آرمی چیف سعودی عرب اور یمن کو باب المندب میں حوثیوں کا کنٹرول قبول نہیں: روبیو امریکا سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، امریکی حکام نائجیریا میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 32 افراد سوار تھے مذاکرات ناکامی کی دو بنیادی وجوہات، اپوزیشن وفد بے اختیار تھا: طارق فضل چودھری نئی جنگ کی صورت میں خطے کے امریکی اتحادی بھی متاثر ہوں گے: ایران ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ منصوبے کی کامیابی، مریم نواز کو عالمی اعزاز سے نواز دیا گیا خیبر پختونخوا کی صورتحال، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں مختلف آپشنز پر مشاورت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 6 اور 7 اکتوبر کو بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری

مہنگائی کے بوجھ تلے عوام ہر لیٹر پیٹرول پر 100 روپے ، ڈیزل پر 94.93 روپے ٹیکسز ادا کرتے ہیں، رپورٹ میں انکشاف

Web Desk

16 February 2026

وزارت توانائی پاکستان کی تازہ دستاویزات سے ظاہر ہوا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں صرف عالمی مارکیٹ پر منحصر نہیں بلکہ ٹیکسز اور لیویز نے بھی عوام کی جیب پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق ہر لیٹر پیٹرول پر 100 روپے 21 پیسے ٹیکس عائد ہیں، جو قیمت کا 39 فیصد بنتا ہے، جبکہ ایک لیٹر ڈیزل پر 94.93 روپے ٹیکسز ہیں جو 34 فیصد کے برابر ہیں۔ فی لیٹر پیٹرول میں 13.31 روپے کسٹم ڈیوٹی، 84.40 روپے پیٹرولیم لیوی اور 2.50 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہیں۔ اسی طرح ڈیزل میں 15.68 روپے کسٹم ڈیوٹی، 76.21 روپے پیٹرولیم لیوی اور 2.50 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہیں۔

عوامی مشکلات یہاں ختم نہیں ہوتیں، کیونکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ہر لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر 7.87 روپے وصول کرتی ہیں، جبکہ ڈیلرز 8.64 روپے اضافی وصول کرتے ہیں، جس سے اصل قیمت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس بلند ٹیکس بوجھ اور اضافی فیسوں کے باعث عام شہریوں کی روزمرہ آمدنی پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور حکومت کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔