LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ ہنر مند نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں: مریم نواز نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ امریکی سینیٹ میں جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ اہم پیشرفت قرار ایران عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں: مارکو روبیو آئی اے ای اے کے انسپکٹرز ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے، ٹرمپ امریکا سے آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے: کاظم غریب آبادی اسلام آباد اتوار بازار میں آگ بھڑک اٹھی ایرانی صدر دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد وطن روانہ

سعودی عرب میں پاکستانی آئی ٹی ماہرین کے لیے مواقع میں اضافہ

Web Desk

7 February 2026

سعودی عرب کے تیزی سے ترقی پذیر ٹیکنالوجی سیکٹر میں پاکستانی آئی ٹی ماہرین کے لیے مواقع بڑھ گئے ہیں۔ ویژن 2030 کے تحت ملک میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے باعث مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، آٹومیشن اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں غیر ملکی ماہرین کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک تعاون، ہدفی مہارت سازی کے پروگرامز اور ادارہ جاتی شراکت داری کو فروغ دینا اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کارکنوں کی تعداد 5 لاکھ 30 ہزار 256 تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔

سعودی کمپنیاں غیر ملکی ماہرین کو پرکشش تنخواہوں، ویزا اسپانسر شپ اور دیگر مراعات فراہم کر رہی ہیں، جبکہ حساس شعبوں جیسے سائبر سیکیورٹی میں پاکستانی ماہرین کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے سعودی عرب میں ذیلی دفاتر قائم کر رکھے ہیں اور عملے کو وہاں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ماہر تعلیم ڈاکٹر نعمان سعید کا کہنا ہے کہ پاکستان کو تعلیمی نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا ہوگا اور آئی ٹی جامعات و صنعتی اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔