LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خلیج میں لنگرانداز جہاز  حرکت نہ کریں ، پاسداران انقلاب کی سخت وارننگ ڈیزل سے بھرا پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز سے داخل ہوکر واپس لوٹ گیا ضلعی انتظامیہ نے اسلام آباد میں دکانیں اور بس اڈے بند ہونے کی خبروں کی تردید کردی فیلڈمارشل عاصم منیرکی تہران آمدپرپیش کردہ امریکی تجاویزکاجائزہ لے رہےہیں، ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل امریکا سے مذاکرات کےدوسرے مرحلے کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، ایرانی نائب وزیرخارجہ اچھے مذاکرات چل رہے ہیں، ایران آبنائے ہرمز کےذریعے بلیک ملیک نہیں کرسکتا، ٹرمپ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کردی ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات

اقوام متحدہ میں یومِ یکجہتی کشمیر پر اجلاس، مقررین نے قبضے کو سماجی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے دیا

Web Desk

6 February 2026

یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اقوام متحدہ میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی ضمنی اجلاس میں مقررین نے غیر قانونی بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) اور فلسطین سمیت دنیا کے مختلف تنازع زدہ علاقوں میں جاری قبضے کو سماجی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی ساختی رکاوٹ قرار دیا۔

یہ اجلاس اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستان کے قونصل خانے کی مشترکہ میزبانی میں کمیشن برائے سماجی ترقی کے 64ویں اجلاس کے موقع پر منعقد ہوا۔ اجلاس کا عنوان تھا:
“کسی کو پیچھے نہ چھوڑیں: تنازع سے متاثرہ اور قابض علاقوں میں سماجی ترقی کے چیلنجز”

کشمیر اور فلسطین میں انسانی و سماجی بحران پر روشنی

سفیر عاصم افتخار احمد، مستقل مندوب پاکستان برائے اقوام متحدہ، نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ سات دہائیوں سے جاری قبضے نے کشمیری عوام کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے، بشمول تعلیم، روزگار، اظہارِ رائے اور نقل و حرکت۔ انہوں نے کہا کہ 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی میں کشمیریوں کی زندگی مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہے۔

انہوں نے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، غیر قانونی حراستوں اور قانونی بےعذابی (Impunity) کو کشمیری سماج کے سماجی ڈھانچے کے لیے تباہ کن قرار دیا۔ فلسطینی عوام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طویل قبضہ، بار بار تشدد اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے سماجی ترقی کے امکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ترکی، OIC اور آذربائیجان کا مؤقف

ترکی کے مستقل مندوب اور OIC-CFM کے چیئرمین سفیر احمد یلڈیز نے کہا کہ جموں و کشمیر میں تقریباً آٹھ دہائیوں سے جاری تنازع نے انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل پر زور دیا۔

OIC کے مستقل مبصر سفیر حمید اوپیلویرو نے کہا کہ جنگیں اور تنازعات سماجی ہم آہنگی اور ترقی کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی اور کشمیری عوام کے حقوق کی حمایت کا اعادہ کیا۔

آذربائیجان کے مستقل مندوب سفیر توفیق موسییف نے تنازعات کے نتیجے میں بے گھر ہونے، غذائی قلت اور بچوں پر نفسیاتی اثرات کو نمایاں کیا اور بین الاقوامی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔

ماہرین اور سول سوسائٹی کی آواز

فلسطینی مصنف ڈاکٹر عبد الحمید سیام نے کہا کہ قبضے کے سائے میں حقیقی سماجی ترقی ممکن نہیں۔
ڈاکٹر غلام نبی فائی نے جموں و کشمیر میں عسکریت اور عدم تحفظ کے باعث تعلیمی، معاشرتی اور نفسیاتی مسائل کی نشاندہی کی۔

اختتامی کلمات

نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی نے کہا کہ قبضے اور طویل تنازعات سے متاثرہ کمیونٹیز کو ترقی کے عمل سے باہر دھکیل دیا جاتا ہے، جبکہ خواتین، بچے اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے۔

پروگرام کی صدارت پاکستانی مشن کی کونسلر محترمہ سائمہ سلیم نے کی۔