اقوام متحدہ میں یومِ یکجہتی کشمیر پر اجلاس، مقررین نے قبضے کو سماجی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے دیا
Web Desk
6 February 2026
یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اقوام متحدہ میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی ضمنی اجلاس میں مقررین نے غیر قانونی بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) اور فلسطین سمیت دنیا کے مختلف تنازع زدہ علاقوں میں جاری قبضے کو سماجی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی ساختی رکاوٹ قرار دیا۔

یہ اجلاس اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستان کے قونصل خانے کی مشترکہ میزبانی میں کمیشن برائے سماجی ترقی کے 64ویں اجلاس کے موقع پر منعقد ہوا۔ اجلاس کا عنوان تھا:
“کسی کو پیچھے نہ چھوڑیں: تنازع سے متاثرہ اور قابض علاقوں میں سماجی ترقی کے چیلنجز”
کشمیر اور فلسطین میں انسانی و سماجی بحران پر روشنی
سفیر عاصم افتخار احمد، مستقل مندوب پاکستان برائے اقوام متحدہ، نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ سات دہائیوں سے جاری قبضے نے کشمیری عوام کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے، بشمول تعلیم، روزگار، اظہارِ رائے اور نقل و حرکت۔ انہوں نے کہا کہ 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی میں کشمیریوں کی زندگی مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہے۔
انہوں نے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، غیر قانونی حراستوں اور قانونی بےعذابی (Impunity) کو کشمیری سماج کے سماجی ڈھانچے کے لیے تباہ کن قرار دیا۔ فلسطینی عوام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طویل قبضہ، بار بار تشدد اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے سماجی ترقی کے امکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ترکی، OIC اور آذربائیجان کا مؤقف
ترکی کے مستقل مندوب اور OIC-CFM کے چیئرمین سفیر احمد یلڈیز نے کہا کہ جموں و کشمیر میں تقریباً آٹھ دہائیوں سے جاری تنازع نے انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل پر زور دیا۔
OIC کے مستقل مبصر سفیر حمید اوپیلویرو نے کہا کہ جنگیں اور تنازعات سماجی ہم آہنگی اور ترقی کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی اور کشمیری عوام کے حقوق کی حمایت کا اعادہ کیا۔
آذربائیجان کے مستقل مندوب سفیر توفیق موسییف نے تنازعات کے نتیجے میں بے گھر ہونے، غذائی قلت اور بچوں پر نفسیاتی اثرات کو نمایاں کیا اور بین الاقوامی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین اور سول سوسائٹی کی آواز
فلسطینی مصنف ڈاکٹر عبد الحمید سیام نے کہا کہ قبضے کے سائے میں حقیقی سماجی ترقی ممکن نہیں۔
ڈاکٹر غلام نبی فائی نے جموں و کشمیر میں عسکریت اور عدم تحفظ کے باعث تعلیمی، معاشرتی اور نفسیاتی مسائل کی نشاندہی کی۔
اختتامی کلمات
نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی نے کہا کہ قبضے اور طویل تنازعات سے متاثرہ کمیونٹیز کو ترقی کے عمل سے باہر دھکیل دیا جاتا ہے، جبکہ خواتین، بچے اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے۔
پروگرام کی صدارت پاکستانی مشن کی کونسلر محترمہ سائمہ سلیم نے کی۔
متعلقہ عنوانات
خلیج میں لنگرانداز جہاز حرکت نہ کریں ، پاسداران انقلاب کی سخت وارننگ
18 April 2026
ڈیزل سے بھرا پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز سے داخل ہوکر واپس لوٹ گیا
18 April 2026
ضلعی انتظامیہ نے اسلام آباد میں دکانیں اور بس اڈے بند ہونے کی خبروں کی تردید کردی
18 April 2026
فیلڈمارشل عاصم منیرکی تہران آمدپرپیش کردہ امریکی تجاویزکاجائزہ لے رہےہیں، ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل
18 April 2026
امریکا سے مذاکرات کےدوسرے مرحلے کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، ایرانی نائب وزیرخارجہ
18 April 2026
اچھے مذاکرات چل رہے ہیں، ایران آبنائے ہرمز کےذریعے بلیک ملیک نہیں کرسکتا، ٹرمپ
18 April 2026
پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کردی
18 April 2026
مذاکرات میں حتمی معاہدہ نہیں ہواتوجنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی، امریکی صدر
18 April 2026