LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم ’اپنا گھر اسکیم‘: دو ماہ میں منظور شدہ ہاؤسنگ فنانسنگ میں 117 فیصد کا ریکارڈ اضافہ اسلام آباد ہائیکورٹ: راول جھیل کنارے نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا 2022ء کا فیصلہ کالعدم ریاض: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اہم سائبر سیکیورٹی معاہدے پر دستخط یونٹی فوڈز کے شیئرز میں مبینہ انسائیڈر ٹریڈنگ، ایس ای سی پی کی تحقیقات میں تیزی امیر جماعت اسلامی کا کل ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نیوی کی میری ٹائم مشق ’سی سپارک 2026‘ کراچی میں شروع بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بچوں سے بات نہ کروانے کا معاملہ، توہینِ عدالت کی درخواست دائر پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش صدر زرداری سے لندن میں محسن نقوی کی ملاقات، اہم پیغام پہنچایا وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں صدارتی محل آمد، گارڈ آف آنر پیش ایف سی بلوچستان ٹریننگ سینٹر خضدار میں بیسک ملٹری ٹریننگ بیچ 76 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ یوم دفاع و شہداء: پشاور کے تعلیمی اداروں میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریبات ایئر ڈیفنس نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو ناکام بنا دیا: اردن

امریکا نے سعودی عرب کو 9 ارب ڈالر کے پیٹریاٹ میزائلز فروخت کی منظوری دے دی

Web Desk

31 January 2026

امریکا نے سعودی عرب کو ممکنہ طور پر 9 ارب ڈالر مالیت کے جدید پیٹریاٹ میزائل سسٹم فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو پیٹریاٹ ایڈوانسڈ کیپیبلٹی-3 (PAC-3) میزائلز اور ان سے متعلق جدید آلات فراہم کیے جائیں گے۔

پینٹاگون کے مطابق اس فروخت کا مقصد خطے میں سعودی عرب کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانا اور اتحادی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا نے اسرائیل کو بھی 6.5 ارب ڈالر کے فوجی سازوسامان فروخت کرنے کی منظوری دی تھی، جس میں 3.8 ارب ڈالر کے اپاچی ہیلی کاپٹرز اور 1.98 ارب ڈالر کی لائٹ وہیکلز شامل ہیں۔

امریکی دفاعی حکام کے مطابق یہ دفاعی معاہدے خطے میں سکیورٹی توازن برقرار رکھنے اور اتحادی ممالک کی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔