LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیفا ورلڈ کپ کے ابتدائی دو راؤنڈز میں 5 ٹیمیں ٹورنامنٹ سے باہر پیشگوئی کرتا ہوں اگلا بجٹ شہباز حکومت پیش نہیں کرے گی، سہیل آفریدی یورپ شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں,فرانس میں 40 افراد جاں بحق، کئی ممالک میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان پاکستان کی پرو ہاکی لیگ میں لگاتار 14ویں شکست، انگلینڈ نے بھی ہرا دیا خیبر پختونخوا فنانس بل میں نئے ٹیکس عائد، جرمانوں میں بڑا اضافہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے نئے مالی سال کا 2170 ارب کا بجٹ منظور کر لیا گورنر تبوک کا شہباز شریف سے رابطہ، پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا پاکستان اور ایران کی امنگیں اور مقاصد مشترکہ ہیں، ایرانی صدر پزشکیان غزہ استحکام فورس: مراکش کا فوجی دستہ اسرائیل پہنچ گیا پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کریں گے، بلاول بھٹو وزیراعظم کی حج 2026 کے منتظمین کی ملاقات، شہباز شریف نے مبارکباد دی عراق نے پاکستانی زائرین کے لیے نئی ویزا شرائط جاری کر دیں حکومت کا پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ پر کنٹرول مزید مضبوط، شیئر ہولڈنگ میں اضافہ فیلڈ مارشل سے لیبیا کے نائب کمانڈر انچیف کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے پر زور

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب،آئینی ترمیم کا مسودہ تیار

Web Desk

10 November 2025

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، کچھ تبدیلیاں تھیں، وہ کر لی گئی ہیں، اتفاق رائے ہونے پر 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ پرنٹنگ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
قبل ازیں ذرائع نے بتایا تھا کہ دونوں جماعتوں میں دو نکات پر تاحال ڈیڈلاک ہے، دونوں جماعتوں کے مابین اتفاق رائے پیدا ہونے کے بعد ترمیم ایوان میں پیش کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم پر اتفاق رائے کے لیے ن لیگی وفد میں اسحاق ڈار، اعظم نذیر تارڑ، انوشہ رحمان و دیگر شریک تھے جبکہ پیپلز پارٹی کے وفد میں شیری رحمان، فاروق نائیک، نوید قمر اور مرتضیٰ وہاب تھے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے چیمبر میں صبح سے دونوں جماعتوں کے وفود کے درمیان بات چیت چل رہی تھی جس کی کامیابی کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔
اس سے پہلے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں رونقیں لگی ہیں، کوئی ڈیڈ لاک نہیں، ترمیم منظور کرانے کے لیے نمبر پورے ہیں، مشاورت ہمیشہ ہوتی ہے، مطلوبہ تعداد پوری ہوگی تو ہی ووٹنگ ہوگی۔