LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
برطانیہ میں دہشت گردی کے شبہ میں گرفتار 5 افراد ضمانت پر رہا غزہ میں نیتن یاہو کی پیدا کردہ تکالیف کو جائز قرار نہیں دے سکتے، برطانوی وزیر خارجہ ایران کے متعدد سابق حکومتی عہدیداران کا حکومت کو خط، این پی ٹی معاہدے سے نکلنے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا زائرین کی پروازیں بحال کرنے کیلئے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ ٹرمپ جوہری پروگرام پر ٹھوس اقدامات کے بدلے ایران کو اقتصادی ریلیف دینے کیلئے تیار امریکی حکام نے آج ایران کے ثالثوں سے بات چیت کی ہے، صدر ٹرمپ احتجاج کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے، بیرسٹر گوہر گورنر راج کی دھمکیوں پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، سہیل آفریدی سرفراز بگٹی کی چوہدری شجاعت سے ملاقات، بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی جب تک عمران خان نہیں کہیں گے، سہیل آفریدی وزیراعلیٰ رہیں گے: جنید اکبر ایم ڈی کیٹ 2026: سندھ کے ٹاپ 20 میں کراچی کا کوئی امیدوار شامل نہیں اعظم نذیر تارڑ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا عندیہ دے دیا موٹر سائیکل کو گاڑی سے گھسیٹنے کا معاملہ، اہم انکشافات سامنے آگئے مریم نواز مری پہنچ گئیں، منگل کو اہم اجلاس طلب کرلیا

پیپلز پارٹی نے صدر کیلئے تاحیات استثنیٰ اور نیب خاتمے کے مطالبات پیش کردیے

Web Desk

9 November 2025

اسلام آباد: 27ویں آئینی ترمیم پر ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حالیہ مذاکرات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی، صدر کےلیے تاعمر استثنیٰ اور قومی احتساب بیورو کے خاتمے کا مطالبہ لے آئی۔

آئین کی شق 248 صدر کو اپنے عہدے کی مدت کے دوران کسی بھی فوجداری کارروائی سے استثنیٰ دیتا ہے، اس حوالے سے درج ہے کہ ’’ کسی بھی عدالت میں صدر اور گورنر کے خلاف ان کے عہدے کی مدت کے دوران کسی بھی قسم کی کوئی فوجداری کارروائی نہ تو شروع ہو سکتی ہے اور نہ ہی جاری رہ سکتی ہے خواہ وہ کچھ بھی ہو‘‘ تاہم اس کے باوجود پیپلزپارٹی نے ان کے صدارتی عہدے کی مدت سے آگے تاعمر استثنیٰ کا تقاضا کرڈالا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر پارلیمنٹ اس کی منظوری دے دیتی ہے تو صدر کے خلاف نئی یا پرانی کوئی فوجداری کارروائی ان کے عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی نہیں ہوسکتی۔ پارٹی نے نیب ختم کرنے کا تقاضا بھی کیا ہے جو کہ میثاق جمہوریت کا حصہ بھی ہے جس پر پیپلزپارٹی اور نواز لیگ نے 2006 میں دستخط کیے تھے۔