LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار ایران کے جوابی حملے: امریکی فوجی اڈوں، طیاروں، دیگر نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں اماراتی وزیر خارجہ کی امریکی مشیر مسعد بولس سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال صدر ٹرمپ کا امریکا میں شرح سود ایک فیصد یااس سے کم کرنے کا مطالبہ معرکہ حق میں عظیم فتح سے پاکستان کو دنیا میں نئی پہچان ملی: احسن اقبال امریکی فیڈرل ریزرو نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا غم انسان کی سوچ، فیصلہ کرنیکی صلاحیت اور یادداشت کو متاثر کرسکتا ہے: کنگ چارلس یورپی یونین کا دیگر ممالک سے ملکر اپنی سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہفتوں بعد بھی ہزاروں افراد لاپتہ، بیشتر لاشوں کی شناخت نہ ہوسکی سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق نے سانحہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کردی بجلی کمپنیاں حکومتی اجازت سے بھی زائد لوڈشیڈنگ میں ملوث ہیں: اویس لغاری نئے صوبے بننے چاہئیں یہ ہمارا حق ہے: سعد خورشید کانجو

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور معاشی پیش رفت پر تبادلۂ خیال

Web Desk

19 January 2026

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ اکنامک فورم 2026 کے موقع پر سعودی عرب کے وزیر خزانہ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، پاکستان کی معاشی پیش رفت، اور دیرینہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

سعودی وزیر خزانہ نے پاکستان میں حالیہ معاشی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ وزیر خزانہ نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور دیرینہ تعلقات کو اجاگر کیا اور سعودی عرب کے مسلسل اور بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور درآمدات کے لیے تقریباً تین ماہ کا کور موجود ہے۔ اس کے علاوہ کیپٹل مارکیٹ میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد نئے سرمایہ کار شامل ہوئے، اور شرحِ سود میں کمی کا رجحان شروع ہو چکا ہے۔

حکومت کا فوکس مستحکم کرنٹ اکاؤنٹ اور پائیدار معاشی ترقی پر ہے، اور مانیٹری پالیسی کے فیصلے اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے تحت کیے جاتے ہیں۔