LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
یورپ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آ گیا، فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں جلاؤ گھیراؤ آسٹرین ایئر لائنز کی پرواز میں بم کی اطلاع، طیارے کی بلغاریہ میں ہنگامی لینڈنگ قلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کے آپریشنز، 4 دہشت گرد ہلاک، میجر وجاہت وحید جام شہادت نوش کر گئے ملتان  تیز رفتار کار بے قابو ہو کر ڈیوائیڈر سے ٹکرانے کے بعد دیوار سے جا ٹکرائی حادثہ میں  5 افراد جاں بحق. روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرانے کیلئے مذاکرات کر رہا ہوں: امریکی صدر حوثی باغیوں کی سعودی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں کے قریب انخلا کی نئی وارننگ جاری یمنی افواج کی پیش قدمی جاری، شدید جھڑپیں، سناماہ اور سراری محاذوں پر کامیابی کا دعویٰ ایران کا خطے میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی ترسیل کو کنٹرول کرنے کیلئے نیا ادارہ قائم کرنے کا اعلان روسی وزیر خارجہ آج تہران کا دورہ کرینگے، دو طرفہ معاہدوں کا جائزہ لیا جائیگا ہمیں پر امن مظاہرین اور تخریب کاروں میں فرق کرنا ہوگا: فرانسیسی صدر امریکی حکام کا مقبوضہ مغربی کنارے کے مسیحی فلسطینی گاؤں طیبہ کا دورہ امارات کی جانب سے غزہ میں 60 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان پہنچا دیا گیا آسٹریلین ایئر لائنز کی پرواز میں بم کی اطلاع، طیارے کی بلغاریہ میں ہنگامی لینڈنگ البرٹا کے فوجی اڈے میں آتشزدگی، 4 کینیڈین فوجی ہلاک، درجنوں افراد زخمی امریکا نے یوکرین کو انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی دوبارہ شروع کردی: صدر زیلنسکی

ترکی بھی پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد میں شمولیت کا خواہش مند ہے، بلومبرگ کا دعویٰ

Web Desk

9 January 2026

ترکی سعودی عرب اور ایٹمی طاقت پاکستان کے درمیان قائم دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے خطے میں طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ یہ دفاعی معاہدہ، جس پر ابتدائی طور پر سعودی عرب اور پاکستان نے گزشتہ ستمبر میں دستخط کیے تھے، اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ کسی ایک رکن ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق یہ شق نیٹو کے آرٹیکل فائیو سے مشابہ ہے، جبکہ ترکی خود نیٹو کا رکن ہے اور امریکہ کے بعد اتحاد کی سب سے بڑی فوجی قوت رکھتا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی کی شمولیت سے متعلق بات چیت آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور معاہدہ طے پانے کا قوی امکان ہے۔ ذرائع نے حساس نوعیت کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کیں۔