LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سوڈانی وزیر داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق بلاول بھٹو کی لاڑکانہ کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت پاکستان اور روس کے درمیان بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کیخلاف اہم معاہدہ حافظ نعیم الرحمٰن کا کراچی میں گراؤنڈ کا افتتاح، کھلاڑیوں کو تحریک چلانے کا مشورہ روس میں بٹ کوائن سمیت 3 کرپٹو کرنسیوں کی خریداری کی اجازت دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کیلئے 8 اصول طے کر دیئے تاجر برادری کے مطالبے پر جنوری میں مزید مال گاڑیاں چلائیں گے: وزیر ریلوے تھر کے کوئلے کی پیداوار بڑھا کر صنعتی ترقی کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے: شرجیل میمن تنقید کرنا آسان جبکہ عملی طور پر کام کرنا مشکل ہے: بلاول بھٹو سیاست میں ڈائیلاگ ضروری، پہلے پی ٹی آئی خود متحد ہو: فیصل کریم کنڈی امریکا نے ڈیڑھ سال میں مذاکرات کے چاروں ادوار سبوتاژ کیے: باقری کنی تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد ضروری ہے: دفتر خارجہ وزیراعظم کا مجوزہ دورۂ روس، 148 کمپنیوں اور 169 نمائندوں کی فہرست تیار ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے سزا کے خلاف اپیلیں دائر کردیں وزیراعظم نے برآمدات بڑھانے کیلئے ٹی ڈی اے پی کو جدید بنانے کی منظوری دے دی

صوبوں کے حقوق اور اختیارات پر سمجھوتہ ناقابل قبول،مولانا فضل الرحمان

Web Desk

7 November 2025

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق اہم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک کوئی مسودہ سامنے نہیں آیا، اور مسودہ آنے پر ہی اس پر بات کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26ویں ترمیم میں حکومت نے 35 شقوں سے دستبرداری اختیار کی تھی اور ان شقوں کو دوبارہ شامل کرنا قابل قبول نہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ترمیم میں کھینچ تان کے ذریعے دو تہائی اکثریت حاصل کی جا رہی ہے، جو نقصان دہ ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ صوبوں کے حقوق اور اختیارات میں کمی کسی صورت قبول نہیں، اور اگر ایسا ہوا تو وہ بھرپور مخالفت کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے سود کے حوالے سے حکومت کی پیشرفت نہ ہونے اور دینی مدارس کی رجسٹریشن نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر پیپلزپارٹی قیادت سے ملاقات بھی کی جائے گی تاکہ بلاول بھٹو کے موقف کو سمجھا جا سکے